کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے صدر سید عبدالقیوم آغا، چیئرمین سید یاسین آغا، نائب صدر نعمان کاکڑ، ترجمان کاشف حیدری و دیگر نے کہا ہے کہ حکومتِ بلوچستان کے حالیہ فیصلوں نے تاجر برادری اور عام شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خصوصاً کوئٹہ شہر میں مارکیٹوں اور دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم غیر منطقی اور تاجر دشمن اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جانب معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر رہے ہیں، انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سوال کیا کہ آخر تاجر برادری کو مزید کس آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے، پہلے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر کے عوام اور تاجروں کی کمر توڑ دی گئی، اس کے بعد ایران سے آنے والے سستے پیٹرول پر بھی پابندیاں عائد کر کے اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا جس سے عوام کو ملنے والا واحد ریلیف بھی ختم ہو گیا، رہنماؤں نے کہا کہ ایک طرف مہنگا ایندھن، دوسری طرف بڑھتے ہوئے اخراجات اور اب کاروباری اوقات میں غیر ضروری پابندیاں کاروبار کی تباہی کے مترادف ہیں، ٹرانسپورٹ کرائے بڑھ چکے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کا براہ راست بوجھ تاجر اور عام شہری دونوں اٹھا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حیران کن طور پر پورے ملک میں کہیں بھی اس نوعیت کی پابندی نافذ نہیں، نہ خیبر پختونخوا، نہ پنجاب، نہ سندھ اور نہ ہی اسلام آباد میں اس طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں، تو کیا بلوچستان کے لیے الگ قوانین بنائے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات پہلے ہی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہیں، امن و امان کی صورتحال، سرحدی تجارت میں رکاوٹیں، ایران اور افغانستان کی غیر یقینی صورتحال پہلے ہی کاروبار کو متاثر کر رہی ہے، ایسے میں کاروباری اوقات مزید محدود کرنا کسی بھی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں، رہنماؤں نے کہا کہ یہ فیصلہ زمینی حقائق سے لاعلمی کا ثبوت ہے اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کا بوجھ تاجروں پر ڈالا جا رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان اور صوبے بھر کی تاجر برادری اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور کسی ایسے حکم کو تسلیم نہیں کرے گی جو زبردستی مسلط کیا جائے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دکانوں کو زبردستی بند کروانے یا تاجروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، انہوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں اور تاجروں کو تنگ نہ کریں کیونکہ تاجر برادری اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہمیشہ مثبت تعلق رہا ہے، انہوں نے کہا کہ تاجر برادری حکومت کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتی بلکہ مسائل کا حل مشاورت کے ذریعے نکالنا چاہتی ہے تاہم اگر انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی راستہ اختیار کریں گے جس میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور شٹرڈاؤن ہڑتال بھی شامل ہو سکتی ہے، آخر میں انہوں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، تاجر برادری کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کو مزید نقصان پہنچائیں بصورت دیگر تاجر برادری اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے میں آزاد ہوگی۔
کوئٹہ میں دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ مسترد، حکومت تاجر دشمن اقدامات سے باز رہے، سید عبدالقیوم آغا

ٹیگز:
کوئٹہ
