کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کوئٹہ کے علاقے سریاب وگردنواح میں حکومتی اداروں کی جانب سے شورومز اور تجارتی مراکز پر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے، تاجروں کے کاروبار پر دھاوا بولنا انتہائی قابلِ افسوس اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان چھاپوں کے باعث تاجر برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور ہزاروں مزدوروں اور ملازمین کا روزگار خطرے میں پڑ رہا ہے۔ تاجر جو پہلے ہی مہنگائی اور کمزور معیشت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کھلی زیادتی کے مترادف ہے۔ ڈیورنڈ خط کے تمام تجارتی راستوں کی بندش نے تاجروں اور عوام کو شدید معاشی بحران سے دوچار کیا ہے،حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے، تجارت، روزگار، کاروبار کے مواقع ختم ہوچکے ہیں یا حکومت اپنے نام نہاد پالیسیوں کے تحت انہیں مزید ختم کرنے اور عوام کے معاشی قتل عام پر تلی ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئٹہ کے مختلف علاقوں عالمو، ایئر پورٹ روڈ، مغربی بائی پاس، سپنی روڈاورمختلف علاقوں میں چھاپے مارکر شورومز سے کرورڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں ضبط کی گئی اور تاجروں کو مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا اور گزشتہ شب سحری کے وقت رات گئے سریاب میں ایکسائز، کسٹم آفیسران واہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی کارروائی کی گئی جس پر تاجروں نے احتجاج بھی کیا۔بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ تاجروں کو ہراساں کرنا اور کاروباری مراکز پر اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ عوام میں شدید غم و غصہ بھی پیدا کر رہی ہیں۔ اگر فوری طور پر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا اور تاجروں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو عوام اور تاجر برادری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور پارٹی ان کے ساتھ کھڑی رہیگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کو دیوار سے لگانے کے بجائے مہنگائی اور بیروزگاری جیسے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دے، بصورت دیگر اس عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
حکومت کی جانب سے شورومز اور تجارتی مراکزپر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ٗ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
