کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) افغان میڈیا کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں کم از کم 18 افراد مارے گئے ۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ چھ افراد زخمی ہیں۔افغان حکام کے مطابق ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں رات گئے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیکا میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ’’مناسب اور متوازن جواب‘‘ دینے کی دھمکی دی ہے۔پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اتوار کی صبح ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سرحدی علاقوں میں ’’دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں‘‘ کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔پاکستان کی طرف سے یہ کارروائی حالیہ ہفتوں میں کم از کم چار خودکش حملوں کے بعد کی گئی ہے، جن میں سے تین شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں اور ایک اسلام آباد میں ہوا۔ ان میں درجنوں شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ’’حتمی ثبوت‘‘ موجود ہیں کہ یہ حملے افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں نے کیے، پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ نے بار بار مطالبے کے باوجود ان عسکریت پسندوں کے خلاف ’’مؤثر کارروائی‘‘ نہیں کی ۔کابل پاکستان کے الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کو پناہ دے رہا ہے۔ افغان طالبان اسلام آباد پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی سکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر عسکری گروہوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں کم از کم 18 افرادمارے گئے

ٹیگز:
پاکستانی
