کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک سیمی آٹو نومس ایکٹ منظور کرنے کے حوالے سے ڈاکٹرز برداری میں تحفظات اور خدشات پائے جاتے ہیں حکومت فوری طور پر ڈاکٹرز برادری کے تحفظات دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اس امر کی وضاحت کرنا چاہتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک سیمی آٹونومس ایکٹ منظور کیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری ہسپتالوں کو مختلف مراحل (فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری) میں نیم خودمختار حیثیت دی جا رہی ہے فیز ون کے تحت بی ایم سی اور سول ہسپتال کو سیمی آٹونومس قرار دیا گیا ہے اس فیصلے کے حوالے سے ڈاکٹر برادری میں شدید تحفظات اور خدشات پائے جاتے ہیں متعدد اہم امور ایسے ہیں جن پر ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر پیش رفت کی گئی۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے سمجھتی ہے کہ کسی بھی بڑے انتظامی اور ساختیاتی فیصلے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر ورکرز، سے مشاورت ناگزیر ہے ہمیں اس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز کے سروس اسٹرکچر، ملازمین کے حقوق اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر ممکنہ منفی اثرات پر سنجیدہ اعتراضات ہیں اور مزید برآں مریضوں کو سہولیات کی فراہمی کے موجودہ طریقہ کار میں بھی پیچیدگیاں اور تاخیر پیدا ہونے کا خدشہ ہے ایسے معاملات جو پہلے فوری طور پر حل ہو جاتے تھے، نئی بیوروکریٹک اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جس کا براہِ راست اثر عوامی صحت پر پڑے گا۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن تمام ڈاکٹرز سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس سیمی آٹونومس نظام کے حوالے سے اپنی آراء، تجاویز اور تحفظات ہمیں تحریری طور پر ارسال کریں تاکہ ایک جامع اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے آپ کی رائے ہمارے لیے نہایت اہم ہے اور اسی کی روشنی میں آئندہ کا مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک سیمی آٹو نومس ایکٹ منظور کرنے کے حوالے سے ڈاکٹرز برداری میں تحفظات اور خدشات پائے جاتے ہیں،ترجمان پی ایم اے کوئٹہ زون

ٹیگز:
پی ایم اے
