کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) ضلع پنجگور میں گندم کی عدم دستیابی کے باعث آٹے کا بحران جاری ہے، جس کے نتیجے میں 40 کلو گرام کی بوری آٹے کی قیمت پانچ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری سطح پر پنجگور کو گندم فراہم نہیں کی جارہی اور محکمہ خوراک کے تمام ادارے غیر فعال ہیں، جس کے سبب فلور ملز اور چکیاں بند پڑی ہیں اور عوام شدید معاشی دبا کا شکار ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ پنجگور کا گندم کوٹہ ضلع پہنچنے سے قبل ہی غائب ہوجاتا ہے، مگر آج تک نہ حکومتی نمائندے اور نہ ضلعی انتظامیہ نے اس پر نوٹس لیا ہے۔ عوامی حلقوں نے اپیل کی ہے کہ پنجگور کو فوری طور پر گندم کوٹہ کے مطابق فراہم کیا جائے تاکہ فلور ملز اور چکیوں کو گندم دستیاب ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔دوسری جانب، پنجگور طویل خشک سالی کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث گھاس ناپید ہوچکی ہے اور لوگ گندم کو مال مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، مگر سرکاری سطح پر گندم دستیاب نہیں، جس سے مالدار بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ اندازے کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں سے پنجگور میں سرکاری سطح پر گندم دستیاب نہیں، اور گندم کے کوٹے کی غائب ہونے کی وجہ سے یہ عوام کے لیے ایک سنجیدہ اور جواب طلب مسئلہ بن گیا ہے۔علاقائی حلقوں نے محکمہ خوراک کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کریں اور ضلع کو مقررہ گندم کوٹہ فراہم کریں۔
پنجگور، 40 کلو آٹے کی بوری 5000 روپے تک پہنچ گئی

ٹیگز:
پنجگور
