کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں تاجروں کے قانونی سامان کو غیر قانونی قراردیکر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے،گزشتہ شب ہزار گنجی میں قانونی سامان تحویل میں لینے پر احتجاج کے دوران تاجروں پر فائرنگ کی گئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں قانونی سامان کو تحویل میں لیکر ضبط کرنے کی کارروائیوں کا خاتمہ کرکے تاجروں کا قانونی سامان واپس کیا جائے اگر سامان واپس نہ دیا گیا توآئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے کسٹم ہاؤس کے سامنے دھرنا اور ہزار گنجی میں احتجاجی مظاہرہ اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیں گے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر حضرت علی اچکزئی، میر یاسین مینگل، عمران ترین، عبدالخالق آغا، حاجی نقیب کاکڑ، محمد جان درویش، حضرت علی، حاجی محمد رحیم، سید عبدالمالک، حاجی حمید اللہ، حاجی اسد اللہ، سلمان شاہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہزار گنجی میں گزشتہ رات تقریباً 2بجے ایف سی اور کسٹم اہلکاروں نے رات کی تاریکی میں دکانوں پر چھاپے مارے اور کروڑں روپے کا کسٹم پیڈ لیگل سامان جوکہ کراچی اور لاہور سے تاجر وں نے فروخت کرنے کیلئے لایا تھاکو چوروں کی طرح لوٹ کر دکانوں سے لے گئے ایک گھنٹے بعد کسٹم اور ایف سی اہلکار دوبارہ آئے اس دوران تاجروں کی بڑی تعداد پہنچ کر بھر پور احتجاج کیا جس کے بعد ایف سی اہلکاروں نے تاجروں پر فائرنگ بھی کی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے پاس تمام لیگل ڈاکومنٹ موجود تھے، جی ڈی اور کراچی لاہور کے ہول سیلرز کی رسیدیں بھی موجود ہونے کے باعث دکانوں سے مال اٹھانے کے موقع پر ایک کسٹم انسپکٹر بھی تھا تاجر کسی صورت کسٹم اور ایف سی کو غیر قانونی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے کہ رات کی تاریکی میں چھاپے مار کر تاجروں کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹنا نا قابل قبول اور قابل مذمت ہے۔ کسٹم اور ایف سی تاجروں کو احتجاج پر مجبور کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے کلیکٹر کسٹم آتے ہی تاجروں کا جینا محال کرکے ان کے دکانوں پر چھاپے مار کر ان کے سامان کی لوٹ مار میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں قانونی سامان کو تحویل میں لیکر ضبط کرنے کی کارروائیوں کا خاتمہ کرکے تاجروں کا قانونی سامان واپس کیا جائے اگر سامان واپس نہ دیا گیا توآئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے کسٹم ہاؤس کے سامنے دھرنا اور ہزار گنجی میں احتجاجی مظاہرہ اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری کسٹم حکام سمیت متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
ہزار گنجی میں قانونی سامان تحویل میں لینے پر احتجاج کے دوران تاجروں پر فائرنگ کی گئی، قانونی سامان واپس کیا جائے،صدر عبدالرحیم کاکڑ

ٹیگز:
عبدالرحیم کاکڑ
