چھتر(ڈیلی گرین گوادر)شبنم عمرانی نے کہا ہے کہ ہم اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، مگر پولیس تھانہ صدر ڈیرہ مراد جمالی کے بدقسمت اور نااہل ایس ایچ او نے طاقت کے نشے میں آ کر ہمارا راستہ روکا اور بلااشتعال خواتین پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تشدد کا نشانہ بننے والوں میں ہماری بہنیں اور بزرگ خواتین شامل تھیں، جو نہ صرف کھلی انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ بلوچ روایات، غیرت اور اقدار پر سیدھا حملہ ہے شبنم عمرانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عورت کو عزت، احترام اور تحفظ حاصل ہے، لیکن مذکورہ ایس ایچ او نے اپنے اختیارات کا ناجائز اور ظالمانہ استعمال کرتے ہوئے اس مقدس روایت کو پامال کیا انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کا یہ رویہ ریاستی طاقت کی بدترین مثال ہے جس کا مقصد پرامن آواز کو دبانا اور خوف و ہراس پھیلانا ہے انہوں نے وزیراعلی بلوچستان، آئی جی پولیس اور دیگر اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ذمہ دار ایس ایچ او کے خلاف سخت اور عبرتناک کارروائی نہ کی گئی تو یہ خاموشی ظلم کی حمایت سمجھی جائے گی۔ شبنم عمرانی نے خبردار کیا کہ خواتین پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور انصاف کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
نااہل ایس ایچ او نے بلوچ روایات اور خواتین کے وقار کو پامال کیا، شبنم عمرانی

ٹیگز:
شبنم عمرانی
