لاہور (ڈیلی گرین گوادر) سابق ایم این اے و نظریاتی کونسل کی ممبر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، سابق ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان و ڈائریکٹر میڈیا سیل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید، شعبہ تعلیم کی نگران عفت سجاد، شعبہ تنظیم کی نگران ڈاکٹر ذبیدہ جبیں، ڈپٹی سیکرٹریز عطیہ نثار اور عائشہ سید نے بھارت کے صوبے بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلمان خاتون کا نقاب زبردستی کھینچ کر اتارنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی، خواتین کے احترام اور آئینی اقدار پر بھی کھلا حملہ ہے۔رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی خاتون کے لباس اور مذہبی شناخت پر جبر، نفرت انگیزی اور تعصب کی بدترین شکل ہے۔ ایک منتخب عہدے پر فائز فرد کی جانب سے ایسا طرزِ عمل ریاستی سطح پر عدم برداشت کو فروغ دیتا ہے اور خواتین کو غیر محفوظ بنانے کا سبب بنتا ہے۔ اسلام خواتین کو عزت، حیا اور اپنی مذہبی شناخت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے اور اقلیتوں، خصوصاً مسلمان خواتین کے مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مزید برآں، ایسے واقعات کے تدارک کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کی عزت و حرمت محفوظ رہے
بھارت ، مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ کر اتارے جانے کے خلاف حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی رہنماؤں کی شدید مذمت

ٹیگز:
جماعت اسلامی
