لاہور (ڈیلی گرین گوادر) سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیراطارق ،صدروسطی پنجاب نازیہ توحید، صدرلاہورعظمی عمران نے بھارت میں ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم خاتون کے چہرے سے زبردستی نقاب نوچے جانے کے مکروہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کے اس کھوکھلے دعوے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب ایک ظالم، متعصب اور جابرانہ ریاست بن چکا ہے، جہاں حکمران بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے سامنے ایک مسلم خاتون کی عزت و وقار کو پامال کرنا محض ایک فرد کا عمل نہیں بلکہ یہ ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی اسلام دشمنی، مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ کا کھلا اظہار ہے۔ یہ واقعہ اس ذہنیت کا ثبوت ہے جو مذہبی آزادی کو کچل کر ہندو ازم کی بالادستی مسلط کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شرمناک اور انسانیت سوز واقعے پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے واضح اور دوٹوک مذمت کا نہ آنا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان فوری طور پر سفارتی سطح پر مؤثر آواز بلند کرے اور عالمی فورمز پر بھارت کے اس گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں بھارتی سفیروں کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ پورے عالمِ اسلام کو اس معاملے پر متحد ہو کر بھارت کی مذمت کرنی چاہیے اور وہاں اقلیتوں، بالخصوص مسلم خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم خواتین کا حجاب اور نقاب ان کی شناخت، آزادی اور مذہبی حق ہے، جسے کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان مظلوم مسلم خواتین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی
مسلم خاتون کے چہرے سے زبردستی نقاب نوچے جانے کے مکروہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں` ڈاکٹر حمیراطارق ، نازیہ توحید،عظمی عمران

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیراطارق
