کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان کے ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والا نوجوان رحیم اللہ ولد رحمت اللہ قریشی کچے کے علاقے میں ڈاکوں کے ہاتھوں اغوا کرلیا گیا۔ اغوا کاروں نے مغوی کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اہلخانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رحیم اللہ مزدوری کے سلسلے میں لاہور گیا ہوا تھا، جہاں سے اسے مبینہ طور پر رحیم یار خان کے کچے کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ ڈاکوں کی جانب سے جاری ویڈیو میں نوجوان زنجیروں میں جکڑا ہوا روتے ہوئے اہلخانہ سے اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کسی بھی طرح تاوان کی رقم ادا کر کے اس کی جان بچائی جائے۔ ویڈیو میں مغوی پر تشدد کے واضح نشانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔اس واقعے نے نہ صرف اہلخانہ بلکہ ژوب بھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مغوی کے والد رحمت اللہ قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے، وہ صرف روزگار کے لیے لاہور گیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزرائے اعلی بلوچستان و پنجاب، وزرائے داخلہ اور آئی جیز سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ڈاکوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔علاقائی سطح پر شہریوں اور قبائلی عمائدین نے اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں سے ڈاکو راج کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آج بھی یہ علاقے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں، جس سے شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکی ہے۔تاحال پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ معاملہ اعلی سطح پر اٹھایا جائے گا تاکہ رحیم اللہ کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
ژوب کا نوجوان کچے کے ڈاکوں کے ہاتھوں اغوا ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ، ویڈیو منظر عام پر

ٹیگز:
ژوب
