کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر حملے، نفرت انگیز تقاریر اور غیر قانونی لاوڈ اسپیکر کے استعمال کے الزام میں 200 نامزد و نامعلوم افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب محکمہ آبپاشی اور تحصیلدار صدر کوئٹہ کی ٹیم ایک زیر تعمیر ڈیم کے سروے کے لیے علاقے میں پہنچی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مقامی افراد نے ٹیم کا راستہ روک کر احتجاج شروع کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر صدر موقع پر پہنچے اور مذاکرات کی کوشش کی، مگر مظاہرین نے انکار کر دیا۔جب انتظامیہ نے سروے کا عمل جاری رکھنے کی کوشش کی تو مظاہرین مشتعل ہو گئے اور پتھرا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔تھانہ ہنہ اوڑک میں درج مقدمے کے مطابق ملزمان پر اقدامِ قتل (دفعہ 324)، جسمانی نقصان (337)، سرکاری کام میں رکاوٹ (341، 353)، سرکاری املاک کو نقصان (427)، ہنگامہ آرائی و غیر قانونی اجتماع (148، 149) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 سمیت بلوچستان سانڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر ذرائع سے مدد لی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق زیر تعمیر ڈیم علاقائی ترقی اور پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جس میں کسی قسم کی غیر قانونی مزاحمت برداشت نہیں کی جائے گی۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے جبکہ سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
ہنہ اوڑک میں ضلعی انتظامیہ و پولیس پر حملہ، نفرت انگیز تقاریر اور غیر قانونی لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج

ٹیگز:
ہنہ اوڑک
