کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن(ر) عبد الخالق اچکزئی کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اجلاس میں مختلف عوامی مسائل پر قراردادیں اور توجہ دلا نوٹس زیر بحث آئے۔ اجلاس میں اسپیکر نے سیکرٹری ہوم اور کمشنر ژوب ڈویژن کو ہدایت کی کہ گورنر ہاس فائرنگ واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔ اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے پسنی فش ہاربر کی ابتر صورتحال پر توجہ دلا نوٹس پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فش ہاربر برسوں سے مٹی تلے دبا ہوا ہے، بحالی پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور جاپانی گرانٹ بھی استعمال ہوئی مگر خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ فش ہاربر ہزاروں ماہی گیروں کے روزگار کا ذریعہ ہے مگر آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ حکومت نے تفصیلات فراہم کرنے کے بعد معاملہ نمٹا دیا گیا۔ایوان میں رکن صوبائی اسمبلی زابد علی ریکی نے نوکنڈی تا ماشکیل 102 کلومیٹر سڑک کی جلد تعمیر کے لیے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے وفاقی حکومت کی عدم توجہ اور سست روی کا شکار ہیں، خصوصا نوکنڈی ماشکیل روڈ جس پر کام 2020 سے شروع ہونے کے باوجود مکمل نہیں ہوا۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی نے کہا کہ یہ اہم سڑک چاغی کو گوادر سے ملائے گی، این ایچ اے کو معیار بہتر بنانے اور کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔رکن اسمبلی شاہدہ روف نے بلوچستان لینڈ ریکارڈ اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے لیے قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ موجودہ بلوچستان ریونیو ایکٹ 1967 نو آبادیاتی دور کا پرانا قانون ہے جو عوامی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ قرارداد میں تجویز دی گئی کہ زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر کے شفافیت اور سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، بحث کے بعد یہ قرارداد مسترد کردی گئی۔ایوان میں گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد بھی پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود گوادر کے عوام پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ ظہور بلیدی نے بتایا کہ گوادر میں روزانہ 30 لاکھ گیلن پانی درکار ہے، ڈیم اور پائپ لائنوں کے مسائل حل کر کے میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران صوبائی مشیر کھیل مینا مجید نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے، میرانی ڈیم سے کچھ زمینیں آباد ہیں مگر بیشتر رقبہ بنجر ہے۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی میں گوادر کے پانی کی فراہمی پر متفقہ قرارداد منظور

ٹیگز:
بلوچستان
