کوئٹہ :کوئٹہ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند نے کہا ہے کہ تین سال میں صوبائی حکومت نے 2650کلومیٹر بلیک ٹاپ روڈ بنائے،تعلیم میں 8500اسامیوں پر بھرتی کی گئی 277اسکولز اپ گریڈ ہوئے 243نئے پرائمری اسکول بنے،250واٹرسپلائی اسکیمات سولر پر منتقل کی گئی ہیں 578گرین ٹریکٹر فراہم کئے جارہے،کینسراور امراض قلب کے ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں،اپوزیشن کا احتجاج بے بنیاد ہے اپوزیشن کو فنڈز دینے کا فیصلہ وزیراعلیٰ کریں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کوسکندرجمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے خونی کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا وزیراعلیٰ نے گزشتہ برس اس منصوبے کے لئے اعلیٰ سطح اجلاس سے واک آؤ ٹ بھی کیا تھا اگرچہ فنڈز کم مختص کئے گئے ہیں لیکن ہم ان فنڈز کو زیادہ کروانے میں کامیاب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ 2ماہ میں صوبے میں صحت کارڈ شروع ہوجائے گاجس سے نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی مفت علاج کی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کیلئے اپنا گھر اسکیم،خواتین کو با اختیار بنانے،بلوچستان انٹرپرائز ڈویلپمنٹ سمیت دیگر منصوبوں سے صوبے میں خوشحالی کا نیا دور آئے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈسے 1500مریضوں کا علاج ہوا 44بلز اسمبلی سے منظور ہوئے،جوائنٹ روڈ،سبزل روڈ،ریڈیو پاکستان،سریاب روڈ کی توسیع کا کام جاری ہے نوتال تا گندواہ روڈ،صحبت پور تا کشمور روڈ بن رہا ہے سی ایم آئی ٹی نے 2937اسکیمات کا دورہ کیااور کئی اسکیمات میں بد انتظامی پانے پر ان پر کام روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی ماسٹر جبکہ 30شہروں کی ٹاون پلاننگ جاری ہے ابتک 500ٹرائی سائیکل،65الیکٹرک موٹرسائیکل معذور افراد میں تقسیم کی گئیں بچوں کے تحفظ کیلئے 1121جبکہ خواتین کے تحفظ کیلئے 1089ہیلپ لائن نمبر قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی شاہراہوں پر14مقامات پر1122ریسکیو سینٹر کھولے گئے ہیں 1300ڈاکٹر تعینات کئے گئے 45کالجز اپ گریڈ ہورہے ہیں یوتھ اورڈیجیٹل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں کھیلوں کے میدان بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ وزیراعلیٰ جام کمال خان کارویہ صبر و تحمل،عزت و احترام کا رہا ہے ہمیشہ انکے مسائل سنے گئے اپوزیشن نے ٹھان رکھی ہے کہ انہوں نے کبھی خوش نہیں ہوناجو لوگ عوام کے خیرخواہ بنتے ہیں آج انہوں نے ہی سڑکیں بند کی ہیں اوراسمبلی میں آکر بات نہیں کر رہے اگر حکومت انکے خلاف کارروائی کرتی تو کہا جاتا کہ ان پر ایکشن لیا گیا ہے اپوزیشن سے بات چیت کیلئے کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں وفاق کے ساتھ اتحادی ہیں اگرانہوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو ہم سے بھی توقع نہ رکھیں۔
اپوزیشن کا احتجاج بے بنیاد ہے اپوزیشن کو فنڈز دینے کا فیصلہ وزیراعلیٰ کریں گے، بشریٰ رند

ٹیگز:
بشریٰ رند
