کوئٹہ:وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت ایک عوامی خدمت کا معاہدہ ہے، لہذا اس کے برعکس عمل کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا پڑے گا۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعہ کے روز سول سنڈیمن پروانشل اسپتال کوئٹہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ،اسفندیار کاکڑ ایم ایس سول ہسپتال بھی ہمراہ تھے میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سول اسپتال صوبے کا سب سے بڑا علاج گاہ ہے جسے جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی بجٹ میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں جدید ایم آر آئی مشین نصب کردی گئی ہے جس کی فیس عوامی سہولت کے پیشِ نظر کم سے کم رکھی گئی ہے جبکہ ایم آر آئی کی سہولت ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے دستیاب ہوگی۔ وزیراعلی نے کہا کہ اسپتال میں پہلی مرتبہ جدید کیتھ لیب قائم کی جارہی ہے تاکہ دل کے مریضوں کو بہتر سہولت فراہم کی جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں اسپتال کی فارمیسیوں میں کرپشن کا بازار گرم تھا، تاہم اب کرپشن کی روک تھام کے لیے فارمیسی سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کردیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس موقع پر وزیراعلی نے ڈاکٹر واسع کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاکھوں روپے کی پرکشش مراعات چھوڑ کر عوام کی خدمت کے لیے کوئٹہ آئے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے گا۔وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت سمیت تمام شعبوں میں عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی دبا یا بلیک میلنگ کے تحت فیصلے نہیں کرے گی۔
سیاست میں ملوث سرکاری ملازم کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی، وزیراعلی بلوچستان

