کوئٹہ:پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے اشتراک سے ڈیٹا کی تشریح اور استعمال کے عنوان سے دو روزہ ورکشاپ کا آغاز سرینا ہوٹل، کوئٹہ میں ہوا۔ اس ورکشاپ کا مقصد ہی بی ایس کے ڈیٹابینک کے مؤثر استعمال کو فروغ دے کر ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور فیصلوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس موقع پر محترمہ سعدیہ عطا صوبائی کوآرڈینیٹر UNFPA، امید علی کھوکھر سیکرٹری اربن پلاننگ و ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ظفر علی بلیدی سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، پی بی ایس کی سینئر مینجمنٹ، اور مختلف محکموں کے افسران بشمول پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، بیورو آف سٹیٹسٹکس، تعلیم، صحت، شہری منصوبہ بندی، پی ڈی ایم اے اور محققین نے شرکت کی۔ورکشاپ میں تعلیم، صحت، معیارِ زندگی، واٹر اینڈ سینیٹیشن، قیمتوں کے اعداد و شمار، معاشی اعداد و شمار اور لیبر فورس جیسے مختلف شعبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ اس اجلاس نے مختلف محکموں کے مابین ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کے عزم کو واضح کیا۔پی بی ایس کے رکن محمد سرور گوندل (تمغۂ شجاعت) نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد، ہی بی ایس کی سرگرمیوں اور ڈیٹاسیٹس کی وسعت پر جامع پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اعداد و شمار کے کردار کو اجاگر کیا اور واضح کیا کہ ہی بی ایس کا ڈیٹابینک کس طرح سے پالیسی سازی کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈیٹا فیسٹ 2024 کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیٹا کی خواندگی کے فروغ اور صارفین و تخلیق کاروں کے مابین روابط کے قیام کی کوششوں کو سراہا، اور شرکاء کو آئندہ ڈیٹا فیسٹ 2025 میں شرکت کی دعوت دی جو 11-12 نومبر 2025 کو پاک-چائنا فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔پی بی ایس کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترمہ رابیہ اعوان نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اس ورکشاپ کے وسیع تر مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیتی اقدام صوبائی منصوبہ بندی و ترقیاتی محکموں اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد میں اضافہ کے لیے ہے تاکہ وہ دستیاب ڈیٹا کو بہتر انداز میں استعمال کر سکیں۔یواین ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر محترمہ سعدیہ عطا نے پی بی ایس اور شراکت دار اداروں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ڈیٹا کے مؤثر استعمال سے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول اور بہتر طرزِ حکمرانی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں پی بی ایس سے گزارش کی کہ وہ صوبائی حکومت اور یواین ایف پی اے کے اشتراک سے بنائے جانے والے ڈیش بورڈز اور ویمن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مجوزہ Gender MIS کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے۔سیکرٹری اربن پلاننگ و ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ امید علی کھوکھر نے پی بی ایس اور یواین ایف پی اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ صوبے میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے بہت معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت ماسٹر پلان کی تیاری پر کام کر رہی ہے، اور پی بی ایس کے ڈیٹابینک کی مدد سے اس عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ظفر علی بلیدی نے پی بی ایس کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ڈیٹا کی بنیاد پر پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔دو روزہ ورکشاپ میں ہی بی ایس کے ماہرین کی جانب سے مختلف ڈیٹا سیٹس، انڈیکیٹرز اور تاریخی سلسلوں پر تفصیلی پریزنٹیشنز دی جا رہی ہیں، جن میں ڈیٹا کے مؤثر استعمال، انٹرایکٹو ڈیش بورڈز، چارٹس اور کسٹمائزڈ ٹائم سیریز کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عملی مشقیں اور ڈیٹا کی فوری فراہمی کے لیے آن اسپاٹ ڈیٹا ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے۔یہ تربیتی اقدام شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دینے، بین المحکماتی تعاون کو مضبوط بنانے اور قومی ڈیٹا اثاثہ جات کے استعمال کو صوبائی اور ضلعی سطح تک وسعت دینے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
کوئٹہ میںپاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس اور UNFPA کے اشتراک سے ڈیٹا کی تشریح اور استعمال کے عنوان سے دو روزہ ورکشاپ کا آغاز

