اسلام آباد ،کوئٹہ:وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بلوچستان میں انٹرنیٹ سروسز کی عارضی بندش کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ سینیٹ اجلاس میں توجہ دلا نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کسی کو شوق نہیں کہ سروسز کو معطل کیا جائے، بلکہ اس کا مقصد عوام کی حفاظت اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بلوچستان میں 6 سے 31 اگست تک انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کی گئی، تاہم صوبے میں ہوائی پروازیں، ٹرین سروس اور سڑک کے راستے مکمل طور پر کھلے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جہاں دہشت گردی یا سیکیورٹی خدشات موجود ہوتے ہیں، وہاں یہ اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔وزیر نے صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ انٹرنیٹ بندش کے دوران جو بھی نیٹ پیکجز خریدے گئے، وہ محفوظ رہیں گے اور اگلے ماہ خودکار طور پر منتقل ہو جائیں گے، تاکہ صارفین کو کسی قسم کی مالی یا سروس نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش،صارفین کے پیکجز محفوظ، اگلے ماہ منتقل کیے جائیں گے، طارق فضل چوہدری

