کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی مری آباد اور ہزارہ ٹاون کے زیر اہتمام ذاکر حسین ہزارہ کے قتل کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی، ہزارہ رہنماں اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران قاتلوں کی گرفتاری اور پولیس و انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر شاوس حاصل بزنجو، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، مرکزی ترجمان علی احمد لانگو، صوبائی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ، ڈاکٹر رمضان ہزارہ، عیوض علی کشتمند اور ریاض زہری نے خطاب کیا۔رہنماں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذاکر حسین ہزارہ کو دن دہاڑے گولی مار کر قتل کر دیا گیا مگر پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ہر چوک پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود عوام کی جان و مال غیر محفوظ ہے، جو کہ امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے۔رہنماں نے کہا کہ بلوچستان بھر خصوصا نصیر آباد اور کچھی میں ڈاکو سرعام وارداتیں کرتے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی روک تھام نہیں ہو رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب اسمبلیوں میں مینڈیٹ چوری کر کے لوگ بٹھائے جائیں اور سرکاری عہدے پیسے دے کر خریدے جائیں تو اس کا نتیجہ عوامی خونریزی کی صورت میں نکلتا ہے۔رہنماں نے نیٹ ورک بندش اور شام پانچ بجے کے بعد سفر پر پابندی کو حکومت کی ناکامی کا کھلا اعتراف قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
ذاکر حسین ہزارہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ، نیشنل پارٹی کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ

ٹیگز:
ذاکر حسین ہزارہ
