اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پچھلے 48 گھنٹے میں بھارت نے نیا شوشہ چھوڑا ہے، جموں و کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹری قرار دینے کے بعد نئی تقسیم کی باتیں ہورہی ہیں، بھارتی میڈیا جموں کو ریاستی درجہ دیے جانے کی خبریں چلا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کو یونین ٹیریٹری ہی رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، بھارت کے یہ اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں یوم استحصال کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ یومِ استحصال ہمیں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی یاد دلاتا ہے، بھارت نے پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، بھارت نے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے لداخ کو الگ کر دیا، بھارت نے مقامی باشندوں کے خصوصی حقوق بھی سلب کر لیے۔اسحٰق ڈار نے کہاکہ جمہوریت کے نام پر تمام سیاسی قیادت کو قید و نظر بند کیا گیا، کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن اور شہری آزادیوں پر قدغنیں لگائی گئیں، بھارتی حکومت نے جمہوریت اور ترقی کے نام پر بنیادی حقوق سلب کیے، موجودہ بھارتی قیادت مقبوضہ کشمیر پر قبضہ مستحکم کر رہی ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کے 5 اگست کے اقدامات کو برقرار رکھا۔انہوں نے کہاکہ پچھلے 6 برسوں میں بھارت نے کشمیری قوانین میں متعدد ترامیم کیں، بھارت نے لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات میں اضافہ کیا، بھارتی اقدامات کشمیریوں کے حق خودارادیت پر کھلا حملہ ہیں۔
پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دینگے ٗ اسحاق ڈار

ٹیگز:
اسحاق ڈار
