استنبول (ڈیلی گرین گوادر) ترکیہ کے اپوزیشن رہنما اور استنبول کے میئر اکرم اماماوغلو کو شہر کے پبلک پراسیکیوٹر کی توہین اور اسے دھمکانے کے الزام میں مجموعی طور پر 20 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔ یہ مقدمہ ان کئی کیسز میں سے ایک ہے جو اماماوغلو کے خلاف زیرِ سماعت ہیں، وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے مرکزی سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور اس وقت مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں پہلے سے ہی زیرِ حراست ہیں۔مارچ میں ہونے والی ان کی گرفتاری کے بعد ترکی میں گزشتہ دہائی کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے، بدھ کا عدالتی اجلاس استنبول کے مغربی کنارے میں واقع سیلیوری عدالت و جیل کمپلیکس میں ہوا، جہاں اماماوغلو کو مارچ سے رکھا گیا ہے۔عدالت نے انہیں ایک سرکاری ملازم کی توہین کے جرم میں ایک سال 5 ماہ اور 15 دن جبکہ دھمکی دینے کے الزام میں مزید 2 ماہ 15 دن قید کی سزا سنائی۔اماماوغلو نے عدالت میں پیشی کے دوران تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں اردوان کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، استغاثہ نے ابتدا میں ان کے لیے سات سال چار ماہ تک قید اور سیاست سے نااہلی کی سزا تجویز کی تھی۔
میئر استنبول اکرم امام اوغلو کو پبلک پراسیکیوٹر کو دھمکانے پر 20 ماہ قید

ٹیگز:
اکرم امام اوغلو
