کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان بورڈ آفس میں جعلی اسناد اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کا سنگین اسکینڈل سامنے آ گیا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کوئٹہ نے معزز ہائی کورٹ بلوچستان کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے 5 سرکاری افسران اور ایک طالبعلم کو گرفتار کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سی پی نمبر 53/2025 کے تحت معزز عدالت کے حکم پر سامنے آیا کہ ضلع واشک کے طالبعلم سعید اللہ ولد لال جان نے بلوچستان بورڈ کے بعض افسران کے ساتھ ملی بھگت سے جعلی اور ٹیمپر شدہ مارکس شیٹ حاصل کر کے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر تمام ریکارڈ اور بیانات اکٹھے کیے۔ تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ سعید اللہ نے جعلی مارکس شیٹ کے ذریعے میرٹ پر داخلہ حاصل کیا جبکہ اصل ریکارڈ میں اس کے نمبر کم تھے۔ بورڈ آفس کے بعض افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال، ریکارڈ ٹیمپرنگ، اور جعلسازی کے ذریعے اس عمل میں معاونت کی۔عدالت نے ملوث تمام افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کا حکم دیا، جس پر اینٹی کرپشن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے درج ذیل 6 افراد کو گرفتار کرلیا:نور احمد ایڈیشنل کنٹرولرمنور حسین ڈپٹی کنٹرولرسعید احمد اسسٹنٹ عبدالقیم اسٹاف محمد اسلم اسسٹنٹ سیکرٹری سعید اللہ ولد لال جان طالبعلم:جعلی سند کا مستفید:ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس کیس کو بلوچستان میں تعلیمی شفافیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا جا رہا ہے۔
بلوچستان بورڈ میں جعلی ڈگری اسکینڈل بے نقاب

ٹیگز:
بلوچستان
