کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کیسکو کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے شہری شدید گرمی میں اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں روزانہ 8 سے 12 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے جبکہ کئی علاقوں میں وولٹیج کی شدید کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔یو این اے کے مطابق کوئٹہ شہر کے جن علاقوں میں بجلی کی طویل بندش جاری ہے ان میں شامل ہیں:جوائنٹ روڈ، ریلوے ہاوسنگ سوسائٹی، سریاب روڈ، سریاب ون، سریاب ٹو، ڈبل روڈ، سرکی روڈ، میکانگی روڈ، پٹیل روڈ، کانسی روڈ، بلوچی اسٹریٹ، جان محمد روڈ، اسٹیوٹ روڈ، نواکلی، بینک کالونی، کچلاک، اسپینی روڈ، مری آباد، بروری، ہزارہ ٹاون، جیل روڈ، سبزل روڈ، کواری روڈ، کلی اسماعیل، کلی عالمو، کلی شابو، کلی فیض آباد، کلی قمبرانی، کلی کمانگر، سیٹلائٹ ٹاون، وحدت کالونی، پشتون آباد، خروٹ آباد، مشرقی بائی پاس، مغربی بائی پاس، نیو سریاب، ہزار گنجی، سیٹلائٹ ٹاون فیز 1تا 3، نواں کلی، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ، علمدار روڈ شامل ہیں۔خصوصا سریاب ون اور سریاب ٹو فیڈرز پر 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بحال کی جا رہی ہے، جس سے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اہلیان ریلوے سوسائٹی اور جوائنٹ روڈ نے کہا ہے کہ ایس ڈی او اور ایکسئین ریلوے سوسائٹی کو بجلی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ پہلے انہیں سٹی فیڈر سے بجلی فراہم کی جاتی تھی، مگر گزشتہ سال سے سریاب فیڈر پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث بجلی کی ترسیل مزید خراب ہو چکی ہے۔شہریوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، وولٹیج کی صورتحال بہتر بنائی جائے اور کیسکو کے ناقص نظام کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ شہریوں کو اس شدید گرمی میں ریلیف مل سکے۔
کوئٹہ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عروج پر، شہری شدید گرمی میں اذیت کا شکار

