اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی سے جامعہ لورالائی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی میں سائنسی تعلیم و تحقیق کے فروغ، جدید ٹیکنالوجیز کے قیام، اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے اس موقع پر کہا کہ حکومتِ پاکستان یونیورسٹی آف لورالائی میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور سائبر سیکیورٹی کے سیٹ اپس کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جدید سائنسی تعلیم کے فروغ کے لیے تمام ضروری وسائل مہیا کیے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں تعلیم و ترقی کی نئی راہیں کھل سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ PCSIR کی معاونت سے الحاقی سائنسز اور نرسنگ کے طلبہ کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کی جائیں گی، جبکہ پانی کے مسائل کے دیرپا حل کے لیے زیتون کی شجرکاری کو ایک مؤثر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ لورالائی کی جانب سے 200 ایکڑ رقبے پر زیتون کے درخت لگا کر ایک مثبت مثال قائم کی گئی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کے مسئلے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں PCRWR کے ساتھ مل کر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سائنسی تعلیم کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی جامعہ لورالائی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے وفاقی وزیر کو جامعہ لورالائی کی سالانہ رپورٹ 2024 بھی پیش کی، اور زیتون کی شجرکاری سمیت دیگر تحقیقی منصوبوں پر تفصیل سے آگاہ کیا۔
خالد حسین مگسی سے جامعہ لورالائی کے وائس چانسلر کی ملاقات، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے قیام کیلئے تعاون پر اتفاق

