کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان حکومت نے صوبے کی جامعات کے استاتذہ اور ملازمین دئیے جانے والے 6مختلف الاؤنسز کو ختم کر کے ایک الاؤنس متعارف کروا دیا،تنخواہوں میں کٹوتی سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن بلوچستان نے صوبے کی مختلف جامعات کے ملازمین کو ملنے والے چھ الاؤنسز یوٹیلٹی الاؤنس، ہاؤس ریکوزیشن، آرڈر لی الاؤنس، ہارڈ شپ الاؤنس، ٹیکنیکل سیبجکٹ الاؤنس، اسپیشل الاؤنس کو ختم کر کے کوئٹہ کی جامعات کے لئے 2022کی بیسک پے اسکیل کا ابتدائی 25فیصد جبکہ کوئٹہ سے باہر کی جامعات کے لئے 35فیصد پی ایس یو الاؤنس متعارف کروا دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مستقبل میں کسی بھی الاؤنس میں رد و بدل کے لئے صوبائی کابینہ کی منظوری لی جائیگی جبکہ یہ پی ایس یو الاؤنس کنٹریکٹ، ایڈہاک یا ٹی ٹی ایس ملازمین کو نہیں دیا جائیگا۔ صوبے کی جامعات کے ملازمین کو ملنے والے اس الاؤنس کا اثر پینشن اور گریجویٹی کی مد میں بھی اثر انداز نہیں ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت اور ایچ ای سی کی گرانٹ ان ایڈ کو جامعات صرف تنخواہوں اور پنشن کی مد میں استعمال کر سکیں گی جبکہ جامعات کے دیگر اخراجات انہیں اپنی آمدن سے کرنے ہونگے جبکہ جامعات کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ذرائع سے خود فنڈز پیدا کریں تاکہ حکومت پر انحصار کم کیا جا سکے۔بلوچستان حکومت کی جانب سے الاؤنسز کی کٹوتی سے جامعات کے ملازمین بلخصوص استاتذہ کی تنخواہوں میں کمی ہونے کا اندیشہ ہے جس پر ملازمین تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل جلد اعلان کرنے پر مشاورت شروع کردی ہے۔
بلوچستان حکومت نے صوبے کی جامعات کے 6مختلف الاؤنسز ختم کردئیے

ٹیگز:
بلوچستان
