کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمدشہی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے مقتدرہ کے لےپالک سیاستدانوں اور نام نہاد تجزیہ نگاروں کی جانب سے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کےلیے صوبہ بلوچستان کی تقسیم، گوادر کو وفاقی تصرف میں لینے، وسائل پر صوبوں کے آئینی اختیار کے خاتمے اور بلوچستان میں مزید طاقت کے استعمال جیسے نامعقول و شرانگیز بیانات و تجاویز کی مسلسل وکالت اور پرچار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات کی سنگینی کے باوجود اسلام آباد کے پالیسی ساز بلوچستان سے متعلق اپنی نوآبادیاتی روش ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ بدقسمتی سے جو حلقے ستتر سالوں میں بلوچ اور بلوچی تک کا فرق نہ سمجھ پائے وہ خود کو بلوچستان کے ماہرین کہلوا کر ملکی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کےلیے بلوچستان سے متعلق سازشی بیانیہ گھڑ رہے ہیں۔ جب بلوچ مخالف بیانیہ سازی ریاستی اشرافیہ کی سرپرستی میں انجام پائے گی تو یہ لازمی طور پر حکمرانوں کی خواہش اور فرمائش سمجھا جائے گا۔ جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ بلوچستان میں حالات مزید خرابی کی جانب گامزن ہیں، لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور احساس بیگانگی شدت اختیار کررہی ہے مگر حکمران حالات کی درستگی کے بجائے بلوچوں کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں۔ بلوچستان میں پرامن جمہوری جدوجہد کےخلاف کریک ڈاون جاری ہے اور خواتین سمیت درجنوں سیاسی کارکنوں کو قید کیا گیا ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ بدستور حل طلب اور جبری گمشدگیاں جاری ہیں، خلاف آئین قانون سازی کے زریعے بلوچستان کی معدنی وسائل کو مرکز کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے، جی حضوری پہ مامور کٹھ پتلی صوبائی حکومت بناکر سرعام بلوچستان کا استحصال کیا جارہا ہے، بارڈر ٹریڈ پر قدغنیں لگا کر لوگوں کو بیروزگار کیا گیا ہے اور اب صوبے کی تقسیم اور گوادر پر وفاقی کنٹرول کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو مزید مایوسی، بیگانگی اور کنارہ کشی کی جانب دھکیل کر نفرتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ تاہم حکمرانوں کو گزشتہ سات دہائیوں کے تجربے اور بار بار طاقت کے استعمال کے بھیانک نتائج سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ بلوچ کسی صورت اپنی سرزمین، شناخت، ساحل وسائل اور حق حاکمیت سے دستبردار نہیں ہونگے۔ لہذا وفاق اور بلوچستان کے درمیان حائل خلیج کو مزید بڑھانے کے بجائے مسائل کے حل کےلیے اعتماد سازی کے اقدامات کرتے ہوئے بلوچستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء ختم کرکے آئین کی حکمرانی قائم کی جائے، صوبائی معاملات میں مرکز اور غیرجمہوری قوتوں کی مداخلت ختم کی جائے، تمام سیاسی قیدیوں بالخصوص خواتین کو رہا کیا جائے، تمام جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کرکے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے اور بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بامعنی مذکرات کے زریعے مسائل کا حل نکالا جائے وگرنہ طاقت کے استعمال اور آپریشن سے مزید ستر سالوں میں بھی بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔
طاقت کے استعمال اور آپریشن سے مزید ستر سال میں بھی بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا،میرکبیرمحمدشہی

ٹیگز:
میر کبیرمحمد شہی
