اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پچھلے 3 دن سے جعفرایکسپریس والا افسوسناک واقعہ چل رہا تھا، اسے ہماری مسلح افواج نے بڑے سانحہ میں بدلنے سے بچالیا، ورنہ خدانخواستہ بڑے پیمانے پر لوگوں کی اموات ہوسکتی تھیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ فورسز کے جوانوں نے کم سے کم نقصان کے ساتھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا، قوم کو پاک افواج پر فخر ہے، ان شااللہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم کامیاب ہوں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ لسانیت کی بنیاد پر جس طرح مسافروں کو الگ کیا گیا، یہ افسوس ناک امر ہے اور اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس واقعہ پر پروپیگنڈا کرنا تھا، وہ سب نے دیکھا، پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے خود یرغمالیوں کو چھوڑ دیا، فوج نے نہیں چھڑوایا۔اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان نے شور شرابہ کیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کے نام لیں، اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ میں ایسے لوگوں کے نام کیوں لوں، اور ایوان کا تقدس مجروح کروں، جن میں اتنی ہمت تک نہیں کہ وہ ملک میں رہ کر اپنا کیس پیش کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک ہم سیاست دان 77 سال کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، انہوں نے عمر ایوب کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی ایوان میں کل ہمیں ایسے لوگوں نے فارم 47 کا طعنہ دیا، جن کے بزرگوں نے ملک میں پہلی بار آئین کو توڑا، آمریت قائم کی، قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں، لوگوں سے ان کے حقوق چھین لیے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرا ایک بار مارشل لائی حکومت سے تعلق رہا، اس پر میں کئی بار معذرت کرچکا ہوں، آج پھر معافی مانگتا ہوں، اس ایوان میں کئی لوگ ایسے بیٹھے ہیں جنہوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہوئی ہیں۔

