کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے قائم مقام امیر مولانا حسین احمد شرودی نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکن کے قتل کے خلاف احتجاج کے بعد جمعیت علماء اسلام کے رہنما عثمان پرکانی سمیت چار دیگر رہنماؤں پر بلاجواز مقدمہ بنایا گیا ہے،جمعیت کا پارلیمانی وفد آج آئی جی پولیس سے ملاقات کریگا اگر مقدمہ واپس نہیں لیا گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔یہ بات انہوں نے اتوار کو مولانا طاہر توحیدی سمیت نگراں کونسل کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکن عبدالرحمن پرکانی کو چند روز قبل شہید کیا گیا جس کے خلاف جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا اور بعدازاں انتظامیہ و پولیس سے مذاکرات اور تحریری معاہدے کے بعد سڑ ک کو کھول دیا گیا لیکن اس کے باوجود پارٹی کے رہنماؤں محمد عثمان پرکانی، ڈاکٹر علی نواز سمیت چار رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس ایسے بیہودہ مقدمات درج کرنے سے گریز کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ واپس لے اور ہمارے شہیداء کے قاتلوں کو گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا پارلیمانی وفد آئی جی پولیس سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کریگا اگر مقدمہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں شاہراہیں بند ہوتی ہیں مگر ان پر مقدمات درج نہیں کئے جاتے جمعیت علماء اسلام کو کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے پہلے بھی مولانا طاہر توحیدی کوپولیس نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا کوئٹہ سے اغواء ہونے والے بچے مصور کاکڑ کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بد امنی، چوری چکاری سمیت دیگر جرائم عروج پر ہیں پولیس شہر کے حالات کو ٹھیک کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
جمعیت کے رہنما عثمان پرکانی سمیت چار دیگر رہنماؤں پر بلاجواز مقدمہ واپس لیا جائے،مولانا حسین احمد شرودی

ٹیگز:
مولانا حسین احمد شرودی
