منگچر(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمدشہی نے گوادر میں کتابوں کے اسٹال پر دھاوا بولنے اور طلبا کو کتابوں سمیت گرفتار کرنے کے واقعے کو ریاستی جبر کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طلبہ کی جانب سے منعقدہ بک اسٹالز پر پہ در پہ ایسے واقعات کا رونما ہونا کسی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ حکمرانوں کی تنگ نظری اور علم دشمنی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ کتابوں کو قید کرنے کا عمل اس بات کا واضح اظہار ہے کہ ارباب اختیار بلوچ قوم میں شعور سے خوفزدہ ہیں اور نوجوانوں کو علم اور آگاہی سے دور رکھنے کے لیے ایسے شرمناک حربے استعمال کر رہے ہیں۔ میر کبیر محمدشہی نے کہا کہ ایک طرف دعوی کیا جاتا ہے کہ بلوچ طلبا کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے مواقع دیے جا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف بلوچستان میں انہی طلبا کو علم کے حصول سے روکنے کے لیے کتابیں تک چھینی جا رہی ہیں۔ یہ دوہرا معیار علم دشمن پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ تو بلوچ قوم کے شعور کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی جدوجہد کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ایسے اقدامات سے نوجوان ریاست اور نظام سے مزید متنفر ہونگے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما نے سوال اٹھایا کہ آخر کتب بینی کو فروغ دینے پر نوجوانوں کو کیوں ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی پالیسیوں سے ریاست خود نوجوانوں کو مزید مایوسی اور بیگانگی کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے، کتابوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم کرے اور زمہ داران کے خلاف کاروائی کرے تاکہ بلوچستان میں کتابوں پر قدغن کا تاثر ختم ہو اور طلبا آزادی سے علمی اور تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔
کتابوں کو قید کرنے کا عمل اس بات کا واضح اظہار ہے کہ ارباب اختیار بلوچ قوم میں شعور سے خوفزدہ ہیں،میر کبیر محمد شہی

ٹیگز:
میر کبیر محمد شہی
