اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) عمران خان کو سزا سنانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتی ہے اور اس کے خلاف عوام کے پاس جائینگے۔ عوام کو منظم کرکے پاکستان کے آئین اور پارلیمنٹ کو بچائینگے۔ عمران خان کا قصور کیا ہے؟ لندن میں تمام پارٹیوں کی کانفرنس ہوئی عمران خان اس کا حصہ تھے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان چکزئی نے اسلام آباد میں دو علیحدہ علیحدہ مقامات پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لندن میں 36پارٹیوں کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان شامل تھے ان پارٹیوں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی ہوگی، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی لیکن بدقسمتی سے ہماری ایک پارٹی کو ہم سے علیحدہ کیا گیا اور ان کے پندرہ یا بیس سال کے تمام کیسز صرف اس لیے ختم کیئے گئے کہ آپ جمہوریت کا ساتھ نہیں دینگے۔ این آر اوکے ذریعے ۹ہزار جرائم کے مقدمات ختم کیئے گئے تھے۔ آج بھی اگر عمران خان کہہ دے کے مجھے رہا کردو میں اس جعلی کی حکومت کو نہیں چھیڑونگا تو اس کے تمام کیسز ختم کردیئے جائینگے اور اُسے رہا کیا جائے گا۔ ایسی رہائی ہمیں قبول نہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرنے والی اور آئین کو نہ ماننے والی قوتوں کے درمیان جنگ چھڑ چکی ہے ہم اس جنگ میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ ہوں گے۔ عوام کی طاقت سے ہم ان چھٹی صدی عیسوی کے جو بادشاہ بنے بیٹھے ہیں جو نو،نو ہزار کیسز ختم کرتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ہم سر بسجود ہوکر گھر چلے جائیں،یہ ہم نے نہیں سیکھا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی ہو یا دوسرے جمہوری لوگ ہمیں اپنی ماؤں نے یہ سکھایا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہونا ہے کسی اور کے سامنے نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ایک تین روزہ کانفرنس بلائینگے جس میں ریٹائرڈ ججز، جنرلز، صحافی حضرات ہوں گے اور تمام جمہوری سیاسی پارٹیاں ہوں گی نہ ہم کسی کو گالی دینگے نہ کسی پر گولی چلائینگے۔ اور جو لوگ، جو ادارے آئین کے فریم میں رہتے ہوئے آئین کی پاسداری کرینگے ہم اُنہیں سلوٹ کرینگے اور جو پاکستان کی آئین سے کھیلے گا اس کے خلاف نکلیں گے۔ جمہور کی حکمرانوں کو شرم نہیں آتی۔ ایاز صادق نے سپیکر ہوتے ہوئے اپنے اسمبلی کے ممبران اور تمام لوگوں کے موبائل کالز ریکارڈ کرنے کی ایجنسیوں کو اجازت دی۔ اسمبلی کو اس طرح نہیں چلانے دینگے۔ یہاں جمہور کی حکمرانی ہوگی، پاکستان کے عوام نے عمران خان کی پارٹی کو ووٹ دیا ہے، ووٹ ملنے کے بعد حکومت دینے کی بجائے آپ بچوں کو مارتے ہیں، گرفتار کرنے ہیں، کیسز بناتے ہیں انہیں بے عزت کرتے ہیں، بڑھے بوڑھوں اور عورتوں کی بے عزتیاں کرتے ہیں۔ کیا پاکستان آرمی نے اس ملک کو قبضہ کیا ہے؟ کیا کسی خارجی آرمی نے ملک پر قبضہ کیا ہے؟ بچے یہاں احتجاج کررہے تھے کہ مردہ باد زندہ باد، جیسے ہم آج یہاں احتجاجی نکلے ہیں۔ ان بچوں پر سامنے سامنے گولیاں چلائی گئیں اور سب کر سروں میں گولیاں پیوست کی گئیں کیا کررہے ہو؟ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ اپنے بچوں کے جذبہ حریت کو مارا جائے دنیا اپنے بچوں کو حریت کی تربیت دیتی ہے کہ جب وطن کی حفاظت کا وقت آجائے کھڑے ہونا ہے یہاں جو لوگ حق کی بات کرتے ہیں ان کو آپ جیلوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسا احتساب عدالت ہے اور ایجنسیاں ہیں؟ ان کو قسم دے دو کہ آپ کو پتہ نہیں کہ لوگوں کو سینٹ کی ووٹ میں کتنے کروڑ روپے دیئے گئے۔ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ یہاں ستر ستر کروڑ روپے ایک ممبر کو دیئے گئے۔ کسی کے خلاف کوئی کیس نہیں نہ اس عدالت نے نہ کسی کے خؒاف کیس بنایا ہے اور نہ بناسکتے ہیں اور نہ کسی کو جیل بھیج سکتے ہیں۔ عمران خان کیونکہ پاکستان کے عوام کا منتخب نمائندہ ہے اور وہ ایک جمہوری پاکستان کی بات کررہا ہے جو آپ کی حکمرانی کے لیے چیلنج ہے اور آپ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم اس کے خلاف نکلے گے لوگوں کو منظم کرکے تحریک چلائینگے اور عوام کو اور سیاسی جمہوری قوتوں کی صف بند کرکے تحریک چلائینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ہماری تحریک میں شامل ہورہے ہیں یہ ان کی خواہش تھی۔ ملک کی تمام جمہوری سیاسی پارٹیاں اور ملک کے ریٹائرڈ جرنیل،ججزز تمام صحافی حضرات تمام جمہوریت پسند لوگوں کو ہم اکٹھا کرینگے اور ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان اس تین روزہ اجلاس کی مہزبانی کرینگے۔ صحافی کے سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب آئین کی بالادستی جدوجہد شروع ہوگی تو مولانا فضل الرحمن صاحب صف اول میں ہوں گے اور بالکل دھڑاکے سے ہونگے جمہوری قوتوں کا ساتھ دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بڑی مشکل میں عالمی طور پرتنہائی کی طرف جارہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ بدی اور دشمنی کی راہ اپنانے کی باتیں ہماری ہماری تنظیم کو قبول نہیں۔ ہم نے اگر خدانخواستہ کہیں دشمنی کرنی ہے تو عوام کی مرضی اور تائید سے کرنی ہوگی اور اگر کسی سے دوستی بھی کرنی ہوگی تو پاکستان کی عوام کی تائید وحمایت کو حاصؒ کرنا ہوگا۔ انڈس کا علاقہ خطرناک حالت میں ہے۔بلوچ، پشتون، سندھی کے علاقوں میں سخت گڑ بڑ جاری ہے۔ ہم نے ایک ایسے پاکستان کی تشکیل نو کرنی ہوگی جس میں کسے طبقے کا طبقے، کسی زبان کا زبان، قوم کا قوم، فرقے کا فرقے، انسان ک انسان پر کوئی ظلم اور بالا دستی نہ ہو ایسا جمہوری پاکستان چلنے کے قابل ہوگا اور چل سکے گا۔
عمران خان کو سزا سنانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتی،محمود خان اچکزئی

ٹیگز:
محمود خان اچکزئی
