کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)حکومت بلوچستان نے ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر ڈبل تنخواہیں لینے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان اور دیگر صوبوں میں اقوام متحدہ کی تنظیموں کے ساتھ ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے 74 مرد و خواتین ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔
اس بات کا انکشاف بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کیا، جنہوں نے ڈبل تنخواہیں لینے میں ملوث ڈاکٹروں کے نام بھی بتائے۔اس فہرست میں 36 میڈیکل افسران، 29 خواتین ڈاکٹرز اور 9 ڈینٹل سرجنز شامل ہیں، جن میں سے کچھ مبینہ طور پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے رکن ہیں۔
بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ محکمہ صحت نے اس مسئلے کی نشاندہی کرنے کے بعد ان 74 ڈاکٹروں کو نوٹس جاری کیے اور قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، محکمہ صحت نے بدعنوانی کے شواہد جمع کرلیے اور ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا منصوبہ ہے۔محکمہ صحت نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں سمیت بین الاقوامی تنظیموں سے کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
وزیر صحت بلوچستان نے کہا کہ جن ڈاکٹروں کی ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہو چکی ہے، انہیں ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنے پیرنٹ ڈپارٹمنٹ میں واپس چلے جائیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں کو برداشت نہیں کرے گی، چند افراد کے اقدامات سے طبی پیشے کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی بندش غریب مریضوں کے لیے ناقابل برداشت ہے، اور ان کی تکلیف کا منظر دل دہلا دینے والا ہے۔بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ملوث ڈاکٹروں کی فہرست میں صحت عامہ کے نظام کو نقصان پہنچانے والے ذاتی مفادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

