کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی)، جس کی صدارت اصغر علی ترین نے کی، نے ڈپٹی کمشنرز کی عدم شرکت اور سرکار کی جانب سے عوامی زمینوں کو واگزار اور معاوضہ لوگوں کو مہیا نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیاکمیٹی نے کہا کہ عوام کو انکی زمینوں کے پیسے نہ ملنے پر عوام تکلیف میں ہیں ان کے مسائل کو حل نہ کرنے پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا۔کمیٹی، جس میں زابد علی ریکی، وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، اور زمرک خان اچکزئی بھی شامل تھے، نے زور دیا کہ جن زمینوں کے کیسز عدالتوں میں ہیں ان کے علاوہ تمام لوگوں کے معاوضہ کے رقم چھ ماہ کے اندر اندر مالکان میں تقسیم کیا جائے۔میٹنگ میں سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو قمبر دشتی، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو نصراللہ ترین، آڈیٹر جنرل بلوچستان شجاع علی،ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، چیف آکاونٹس آفیسر سید ادریس آغا، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ، ڈپٹی کمشنر آواران عائشہ زہری، اے ڈی سی قلعہ عبداللہ نثار احمد لانگو، و دیگر اے ڈی سی اور اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔ دو مرتبہ مواقع فراہم کرنے کے باوجود، ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شرکت میں ناکام رہے، جس پر چیئرمین نے چیف سیکرٹری کو مراسلہ لکھنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ ڈی سیز کیخلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کو ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے آگاہ کیا کہ ڈی سی لسبیلہ کو 2021 میں 75 کروڈ روپے ملے تھے، جو کہ ابھی تک ان کے اکاؤنٹ میں موجود ہیں۔ ڈی سی لسبیلہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ رقم انکے پوسٹنگ سے پہلے کے پڑے ہوئے ہیں۔ چیئر مین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا انہوں نے زور دیا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کام کا حصہ ہے، لیکن ایسے معاملات کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے۔ وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے کہا کہ اگر عدالت نے کسی زمین پر اسٹے آرڈر نہیں دیا ہے تو یہ رقم عوام میں تقسیم کیے جائے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کی جائیدادوں کی قیمت کم رکھی گئی تو ان کی رقم میں اضافہ کر کے جلد از جلد ادائیگی کی جائے۔ زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ عوام کے ساتھ ناجائز اور ناانصافی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا انھوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ ناانصافی کا تدارک کیا جائے۔کمیٹی نے ڈپٹی کمشنرز کے اکاوٹنس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ ان تمام اکاونٹس کی تفصیلات حاصل کریں اور غیر فعال اکاونٹس کو جلد ا جلد بند کر دیں اور رقم قومی خزانہ میں جمع کریں۔زابد علی ریکی نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کے اکاونٹس میں کئی سالوں سے غیر استعمال شدہ پڑا ہوا رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔سابقہ میٹنگز میں، کمیٹی نے دریافت کیا تھا کہ تقریبا 19 ارب روپے 2008 سے ڈی سیز کے اکاونٹس میں معاوضہ کی مد میں پڑے ہوئے ہیں، جو معاوضہ، سڑک کٹائی، اور دیگر مقاصد کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ ان کو اس مقصد کی استعمال میں لایا جائے۔ زمرک خان اچکزئی نے ہدایت دی کہ عوام کو انکے جائیداد واگزار کرنے کے بدلے ان کو رقم کی ادائیگی جلد از جلد کی جا ئے اور انھوں نے ان پیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں پیسوں کو سرکاری خزانے میں جمع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔کمیٹی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی غیر تسلی بخش تیاری اور ڈپٹی کمشنر کی عدم شرکت پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ڈپٹی کمشنرز کی غیر موجودگی پر مختلف ڈسٹرکٹس سے آئے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی رائے تسلیم نہیں کی اور انھیں سننے سے انکار کیا۔چئیرمین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم پر اگر ممبران پی اے سی وزیر خزانہ اور سئینر ممبر بورڈ آف ریونیو آسکتے ہیں تو ڈی سیز کیونکر آنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 9 دسمبر کو دو بجے ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو مکمل تیاری کے ساتھ شرکت کرنی ہوگی اور ڈپٹی کمشنرز کے علاوہ کسی دیگر آفیسر کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ متعلقہ ڈی سی کی نمائندگی کریں۔
ڈپٹی کمشنرزپبلک اکاونٹس کمیٹی کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں،اصغر علی ترین

ٹیگز:
اصغر علی ترین
