کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچ طلبا ایکشن کمیٹی کی جانب سے بولان میڈیکل کالج میں طلبا تنظیموں کے مابین جھگڑے کے سبب کالج ہاسٹل کی بندش اور 200سے زائد طلبا کو اگر رات 8بجے تک رہا نہیں کیا گیا تو ہم بی ایم سی کے سامنے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی پنجاب کے تعلیمی اداروں میں جماعت اسلامی کے غنڈے بلوچ پشتون طلبا پر تشدد کرتے ہیں وہاں پولیس کیوں نہیں آتی ایک سازش کے تحت بلوچ اور پشتونوں پر تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہے تاکہ وہ پڑھ نہ سکیں اور اپنے حقوق سے بے خبر رہیں پشتونوں اور بلوچوں کا کوئی جھگڑا نہیں ہم آپس میں بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسئلے حل کریں گے پولیس گرفتار طلبہ کو رہا کریں ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام نبی مری حمید بلوچ گل زادی اور دیگر مقررین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان لاوارث نہیں جہاں معمولی جھگڑا ہوتے ہی سیکیورٹی فورسز جاکر تعلیمی اداروں پر قبضہ کریں ہاسٹل سے طلبا کو بے دخل کریں آج ایک مرتبہ پھر پشتون بلوچ یکجہتی کی ضرورت ہے جس طرح نیب کے دور میں ہم سب متحد تھے انہوں نے کہا ہمارے نوجوانوں پر ایک سازش کے تحت تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہے تاکہ وہ بنیادی تعلیم حاصل نہ کرسکیں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی اور ضلعی انتظامیہ کو بلوچ اور پشتون طلبہ سے دشمنی سمجھ سے بالاتر ہے ریاستی ادارے نہیں چاہتے کہ بلوچ طلبا پڑھ لکھ جائیں میں مطالبہ کرتا ہوں کہ بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں سے سیکیورٹی فورسز کے انخلا کو یقینی بنایا جائے گرفتار طلبا کو رہا کیا جائے ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ وہ دوبارہ جھگڑا نہیں کریں گے بلوچستان نیشنل پارٹی سینٹرل کمیٹی کے رکن غلام نبی مری کا کہنا تھا کہ بولان میڈیکل کالج میں پولیس شیلنگ طلبا پر تشدد بلوچ طالبات کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کے مذمت کرتے ہیں ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں پر تشدد واقعات کرکے صوبے کے عوام کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ معمولی جھگڑے پر تعلیمی اداروں کو بند کرکے ان کے ہاسٹلوں پر سیکیورٹی فورسز کا قبضہ قابل مذمت ہے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گل زادی کا کہنا تھا کہ جس طرح بولان میڈیکل کالج میں طلبہ و طالبات پر تشدد کیا گیا ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور ان کے بے دریغ گرفتاری کے مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت بلوچ اور پشتون طلبا کے نام کو فورس شیڈول میں شامل کیا جاتا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے بی ایس او کے جنرل سیکرٹری صمند بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچ نسل کشی کا طیہ کررکھا ہے بولان میڈیکل کالج سے 2سو طلبا کی گرفتاری اور ان کے ہاسٹل کی بندش سے لگتا ہے کہ وہ بلو چ اور پشتون طلبا کو پڑھنے نہیں دیں گے انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو آج رات 8بجے تک تمام طلبا کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر رات 8بجکر ایک منٹ پر تادم بھوک ہڑتال اور دھرنا دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر آئے گی۔
ایک سازش کے تحت بلوچ اور پشتونوں پر تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہے،اصغر اچکزئی،غلام نبی مری،اسحاق بلوچ

ٹیگز:
بلوچ طلبا ایکشن کمیٹی
