لاہور (ڈیلی گرین گوادر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں مفادات کی سیاست پھر سے شروع ہوگئی ہے اور جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے،کسی کو کسی کی مدت ملازمت میں توسیع کروانی ہے تو کسی کو اپنی پارٹی کے لیے کچھ سیٹیں حاصل کرنی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی بلوں نے عوام کو زندہ درگور کردیا ہے، گیس کا بحران سامنے کھڑا ہے، تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس کی بھرمار کرکے پیسے لیے جارہے ہیں لیکن پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو ان مسائل پر بات کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مفادات کی سیاست پھر سے شروع ہوگئی ہے، کسی کو کسی کی مدت ملازمت میں توسیع کروانی ہے، کسی کو اپنی پارٹی کے لیے کچھ سیٹیں حاصل کرنی ہیں جو وہ نہیں جیت سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڑ توڑ کا یہ عمل ایک بار پھر تیز ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، کچھ وقفے کے لیے کچھ لوگ جدا ہوجاتے ہیں پھر دوبارہ سے ملکر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایکسٹیشن سے معاملات شروع ہوں گے جو کہیں اور جاکر ختم ہوں گے، پاکستان کے ساتھ یہی کھلواڑ ہوتا رہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جس کے پاس جب بھی حکومت آتی ہے وہ صرف مراعات یافتہ طبقے کو ہی سہولت فراہم کرتا ہے، قوم کے 2 ہزار ارب روپے آئی پی پیز کو بجلی استعمال نہ کرنے پر دیے جارہے ہیں، ان آئی پی پیز کو بنانے والوں میں یہ ساری جماعتیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم چھوڑیں گے نہیں، 2 ماہ کے لیے 14 روپے کا کمی کا اعلان کچھ بھی نہیں ہے، اگر شریف خاندان یا ان کے منظور نظر لوگوں کی کی آئی پی پیز کی کیپسٹی چارجز چھوڑیں تو پاکستان بھر کی بجلی کی قیمت میں بہت کمی آجائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کچے کے ڈاکوؤں نے پولیس کو نہیں چھوڑا اگر پکے کے ڈاکو کچے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی چھوڑ دیں تو کچے کے ڈاکو کچھ نہیں کر سکیں گے، آصف زرداری صاحب کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے بانی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار ہر دور میں ہوتی ہے، جب کیس بنانے ہوتے ہیں تو کوئی بھی کیس بناکر لوگوں کو اند کردیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کہتے رہتے تھے کہ پاکستان میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہونا چاہیے اب زرداری صاحب صدر ہیں لیکن ان کی آنیاں جانیاں صرف مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ہے اگر یہ جمہوری بحالی کے لیے تو اچھا ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان ناراض لوگوں سے ایکسٹیشن پر تو ملاقاتیں کررہے ہیں لیکن بجلی تعلیم و صحت کے مسائل کے حل کے لیے اکٹھے نہیں ہوتے تو پھر ہم ان کا ساتھ کیوں دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 28 اگست کو ملک گیر ہڑتال ہوگی تاجروں سے اپیل ہے کہ وہ اس ہڑتال کو کامیاب کریں۔

