کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان کے سابق وزیر خزانہ قبائلی رہنما میر خالد خان لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی اور عوام کی بد حالی کو دور کرنے کیلئے بیوروکریسی کو بھی عوامی رویہ اپنا نا ہوگا بلوچستان وسائل سے ما لا مال صوبہ ہے بلوچستان کی پسماندگی کی انتہا ہے بلوچستان کے انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یہاں کام کے بہت سے مواقع موجود ہیں جو بھی حکومت بر سر اقتدار ہو خواہش تو یہی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں اور انہیں زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں ہمارے صوبے سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کیا میر خالد لانگو نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں ایک کمزوری ہے جب وہ کام نہیں کرنا چاہتے تو مختلف بہانے ڈونڈتے ہیں موجودہ پرنسپل سیکرٹری جو پہلے ڈی جی پی ڈی ایم اے تھے میرا بھی ان سے ملاقات ہوئی ٹیسٹ انٹر ویو دینے والے نوجوانوں کو روزگار دیئے جائے اسی لئے وہ ہمیشہ یہ بہانے کرتے تھے کہ اوپر سے مجھے ہدایت ہے کہ یہ پوسٹیں نہ نکالیں جائے حالانکہ وہ خود کام نہیں کرنا چاہتے تھے کبھی وہ کہتے کہ کرنل محمود نے منع فرما یا ہے حالانکہ وہ خود کام نہیں کرنا چاہتے تھے صرف بہانے بازی کرتے تھے انہوں نے کہا کہ جب کام خود نہیں کرنا ہوتا ہے تو اداروں کا نام لیکر انہیں بد نام کیا جاتا ہے کہ شاید وہ نہیں چاہتے اگر اس طرح کا روش رہے گا تو بلوچستان کس طرح ترقی کرے گا موجودہ حکومت میں شامل وزرا اور اراکین اسمبلی ہی بتا سکتے ہیں کہ اب پرنسپل سیکرٹری کام نکالتے ہیں یا وہی پرانے روش پر قائم ہے اگر بلوچستان میں کوئی کام کرنا چاہے تو مواقع بہت موجود ہے جس کی بھی حکومت ہو لیکن کچھ ایسے لوگ ضرور ہونگے جو خود کام نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ دوسرے اداروں کا نام لیکر لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرتے ہیں۔
بلوچستان کی پسماندگی اور عوام کی بد حالی کو دور کرنے کیلئے بیوروکریسی کو عوامی رویہ اپنا نا ہوگا،میرخالد لانگو

ٹیگز:
میرخالد لانگو
