لاہور (ڈیلی گرین گوادر) فلاح خاندان سینٹر کے زیراہتمام بڑاخاندان ،مضبوط خاندان ،مستحکم معاشرہ ،خوشحال پاکستان کے عنوان سے پنج سالہ منصوبے کم ازکم 6اورزیادہ سے زیادہ 16 بچے پیداکرنے والی ماوؤں کےاعزاز میں اختتامی تقریب منعقد کی گئ جس کی صدارت ڈائریکٹر فلاح خاندان عافیہ سرور نے کی۔مہمان خصوصی ڈاکٹر ام کلثوم نےدورجدیدکے مسائل اور ان کاممکنہ حل پیش کرتےہوۓ کہاکہ دو بچے خوشحال گھرانہ کے مادی طرز فکر نے بچوں کی نفسیات ،سوشل رویہ ،بڑھاپے میں والدین کی دیکھ بھال ،شادی بیاہ میں کثیر شرائط نے بہت اضافہ کیا ہے ۔

قلیل خاندانی نظام نے بچوں کو انفرادیت ،خود غرضی ،خواہش پرستی ،انانیت ،عدم تحفظ اور سب سے بڑھ کر انسان سے لا تعلقی اور اپنی دنیا میں محدود کر کے بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار کیا ہے ۔عافیہ سرور نے پانچ سالہ سینٹر کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوۓواضع کیاکہ گذشتہ پانچ سالوں مختلف حلقوں میں سیمنارز منعقد کرواۓ گئے اورکثرت اولاد پرخواتین کی حوصلہ افزائ کی گئ کم بچوں والی ماوں نے بھی زیادہ بچوں والی ماں کی تحسین کی ۔

فلاح خاندان نے تلاش رشتہ میں مدد ،بچوں کی تربیت اور ازدواجی مشکلات میں خود ساختہ خاندانی منصوبہ بندی کا نظام سینٹر اس فہم پر مسلسل کام کر رہا ہے کہ تعلیم، تربیت اور رزق کے اندیشے سے قتل اولاد جرم ہے جس کا خمیازہ نسلوں اور قوموں کو تباہ کر دیتا ہے دنیا بھر میں معاشرے اپنے تحفظ کے لیے بالخصوص جا پان چین اور اور یورپ کے ممالک پھر سے بچوں کے اضافہ پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ معاشرے کا توازن برقرار رکھا جا سکے ۔پروگرام میں اہم شخصیات گلفرین نواز ،نازیہ توحید ،نوشابہ احسن ،عائشہ اخلاق اور میڈیاسے تعلق رکھنےوالی خواتین رفعیہ ناہیداکرام ،دیبامرزا کے علاوہ کثیرتعداد نے شرکت کی۔

