پنجگور (ڈیلی گرین گوادر)بی این پی عوامی کے زیر اہتمام سندے سرعیسئی شاہوکہن میں گرینڈ شمولیتی جلسہ منعقد ہوا جس میں نیشنل پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے 1500 سیاسی کارکنوں نے بی این پی عوامی میں شمولیت اختیار کی، سندے سر میں منعقدہ عظیم الشان شمولیتی جلسہ عام کے مہمان خاص بی این پی عوامی مرکزی صدر وسابق صوبائی وزیر میراسداللہ بلوچ تھے جبکہ دیگر اعزازی مہمانوں میں بی این پی عوامی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری نوراحمد بلوچ بی این پی عوامی کے ضلعی آرگنائزر رحمدل بلوچ سابق صدر نثاراحمد مئیر میونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی ڈپٹی مئیر عبدالباقی،حاجی عزیز مراد، حاجی فضل محمد حاجی محمد یٰسین، عطاء مہر و دیگر ش تھے، شمولیتی پنڈال پہنچنے پر عیسئی، سندے سر، شاہو کہن کے کارکنوں نے بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میراسداللہ بلوچ اور پارٹی کے دیگر قائدین کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا بی این پی عوامی میں شمولیت کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے سینئر کارکناں جاوید علی حاجی محمد یونس نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں اورعزیزواقارب کے ہمراہ جبکہ تحصیل پروم سے سابق یوسی ناظم نور احمد بابل نے اپنے سیکنڑوں ساتھیوں کے ساتھ باپ پارٹی سے حاجی عبدالمالک اور امام بخش بمع خاندان کے نیشنل پارٹی سے، میار ولد جلال بمع رشتہ دار و خاندان کے افراد کے ساتھ نیشنل پارٹی سے، محمد اسلم سنجرانی ولد امیتان بمع خاندان و رشتہ داروں کے باپ پارٹی سے، پیر جان ولد تاج محمد بمع خاندان باپ پارٹی سے، محمد انور ولد غلام محمد بمع خاندان نیشنل پارٹی سے، حاجی حمید ولد بہرام بمع خاندان نیشنل پارٹی سے، مسکان ولد شکل بمع خاندان نیشنل پارٹی سے، سلیم ولد داد محمد بمع خاندان نیشنل پارٹی سے گر یونین کونسل نکر سے واجہ عطا محمد ولد عید محمد بمع خاندان نیشنل پارٹی سے چتکان کریم آباد سے حاجی پزیر احمد ولد محمد امین اپنے 65 لوگوں کے ساتھ نیشنل پارٹی سے چتکان جہلگ سے احمد فقیر، عبدالباسط کی سر براہی میں 60 افراد نے نیشنل پارٹی سے شاہو کہن سندے سر جاسم اور عابد کی سربراہی میں 30 افراد نے قوم پرست پارٹی سے عیسئی سے مستری نواب علی نے اپنے 40 افراد کے ہمراہ نیشنل پارٹی سے حاجی فضل محمد اور محمد طیب کی سربراہی میں 30 افراد نے باپ پارٹی سے خدابادان سے مہیم بلوچ ولد فضل محمد اپنے 20 افراد کے ساتھ قوم پرست پارٹی سے چتکان سے حاجی نور احمد ریکی 35 افراد کے ساتھ قوم پرست پارٹی سے فتح علی گوارگو سے مستری صابر کی سربراہی میں 60 افراد نے نیشنل پارٹی سے کہن زنگی عیسئی سے محمد جان ولد گل محمد نے 10 افراد کے ساتھ نیشنل پارٹی سے کہن زنگی سے عبد الحمید ولد ابرہیم کی سربراہی میں 15 افراد نے نیشنل پارٹی سے کہن زنگی سے تنویر احمد ولد عبد القادر بلوچ نے 10 افراد کے ساتھ قوم پرست پارٹی سے کہن زنگی سے لیاقت علی نے اپنے خاندان کے ساتھ نیشنل پارٹی سے کہن زنگی سے ممتاز علی بمائے فیملی قوم پرست پارٹی سے کہن زنگی سے عبد الوحید بمع فیملی قوم پرست پارٹی سیعیسئی کور سے واجہ عبدالعزیز بمائے اپنے فیملی کے 25 افراد کے ہمراہ شامل ہیں گرینڈ شمولیتی جلسہ سے بی این پی عوامی کے مرکزی صدر وسابق صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ بی این پی عوامی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری نوراحمد بلوچ مئیر میونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی حاجی محمد یسین زہری نوراحمد بابل اور جاوید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نام سے کوئی قوم پرست نہیں بنتا قوم پرست اس کو کہتے ہیں جو اپنے عوام کی خوشحالی کے لئے جہدوجہد کرتا ہے بی این پی عوامی نے قوم پرستی کی اصل روح کو زندہ رکھا ہے آج پنجگور کے کونے کونے میں ترقیاتی اسکیمیں، سڑکیں اسپتال اور تعلیمی ادارے بی این پی عوامی کے تعمیری اورقوم پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ نیشنلزم کے نام پر بلوچ قوم سے کہلواڑ کیا ہے یہ صرف کرسی کے گریدہ رہے ہیں 2013 میں یہ جس پوزیشن کے ساتھ وزیراعلی بنے اس بات سے بلوچستان بشمول مکران اور پنجگور کے عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ انکو الیکشن کے بغیر کس طرح سلیکٹ کرکے بلوچستان کے عوام پر مسلط کیاگیا 2013 میں یہ جس معاہدے کے تحت لائے گئے تھے اسکا صلہ بلوچ قوم کو دیاگیا انکے دامن پر دس ہزار بلوچوں کے خون کے چھینٹے پڑے ہیں نیشنل پارٹی نے کرسی کے لیے نوجوانوں کی قربانی دیا اور شہباز شریف کے ہاں میں ہاں ملا کر بلوچستان کے وسائل اور گوادر کاچائنا میں جاکرسودا کیا نیشنل پارٹی بلوچوں کا سوداگر ہے 2013 میں انکے اسمبلیوں میں جانے سے بلوچوں نے جو تکلیف اور مصیبتیں جھیلیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں نیشنل پارٹی کا کردار ہمیشہ ایک جاسوس کا رہا ہے انکے پاس نہ کوئی پروگرام ہے اور نہ یہ بلوچ کی خوشحالی چاہتے ہیں مقررین نے کہا کہ راونڈ کی گلیوں میں کرسی کے لیے بھیک مانگنے والے سیاسی بھکاریوں کے پاس بلوچستان اور بلوچ قوم کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے یہ ہمیشہ اقتدار کے بھوکے رہے ہیں راونڈ کے بعد اب کوئٹہ میں جس طرح نیشنل پارٹی کی قیادت نے کرسی کے لیے نوازشریف کے آگے عاجزی دکھائی اس سے تو بہتر تھا کہ وہ سیاست ہی نہ کرتے مگر کیا کریں کرسی کی محبت نے انکو اپنے پارٹی کے شہیدوں سے بھی بیگانہ بنادیا ہے نوازشریف کے آگے سجدہ ریز ہونا ان کے لیے کونسی بڑی بات ہے فداشہید کے قاتل آج کن صفوں میں موجود ہیں اس سے بھی عوام اچھی طرح واقف ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے جھنڈے پر جو چار ستارے ہیں پہلے اسکی تو وضاحت کریں کہ یہ کس خطے کے مخلوق کی نمائندگی کرتا ہے ماضی میں نیشنل پارٹی کو جس مقصد کے لیے اقتدار سونپا گیا تھا اس سے بلوچ قوم نے کافی زخم جیلے اب اسطرح کی تمام کوششوں کو عوام کی قوت سے ناکام بنادیا جائے گا عوام کی مرضی ومنشا کے برخلاف کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا عوام کی مرضی ہے کہ وہ جس کو ووٹ دے کر منتخب کریں بی این پی عوامی کے پاس عوام کی طاقت ہے عوام کے ووٹوں سے ہی اقتدار میں پہنچنا اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ 400 کروڑ روپے نیشنل پارٹی کو پنجگور کی ترقی کی مد میں دئیے گئے تھے کیا اسکا کوئی حساب کتاب ہے یہ پیسے جو عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیئے گئے تھے کہاں اور کن مقاصد کے لیے جاکر خرچ ہوئے انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی کو پنجگور کی ترقی کے لیے جو پیسے ملے اسکا حساب بھی ہم دینے کے لیے تیار ہیں اور جن کاموں پر یہ جاکر خرچ ہوئے ان کاموں کی بھی نشاندہی کریں گے انہوں نے پنجگور کے عوام سے کہا کہ ووٹ دینے سے پہلے امیدوار کی کارکردگی کا جائزہ لیں جو کل عوام کے پیسوں کو لوٹ کا مال سمجھ کر ہضم کرچکے تھے آج وہ کس منہ سے دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگارہے ہیں نیشنل پارٹی بلوچ قوم کا سوداگراورمجرم ہے تاریخ اسکے منفی کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی انہوں نے کہا کہ ہم سیاست میں رواداری کے قائل ہیں جھنڈوں کو جلانا سیاست نہیں ہے جسطرح بی این پی عوامی جگہ جگہ جلسہ منعقد کرکے اپنا پروگرام عوام میں پہنچارہی ہے نیشنل پارٹی میں اگر دم ہے تو وہ بی این پی عوامی کا مقابلہ سیاسی و جمہوری اداب سیکھ کر پبلک میں اکر کریں زاتی کردار کشی اور جھنڈا جلانے سے بی این پی عوامی کا عوام کے ساتھ رشتوں کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ہم باعمل سیاست کے داعی ہیں ہمارا خواب ایک پڑھا لکھا بلوچستان ہے اورساتھ میں یہاں سے فرسودہ قبائلی و نیم جاگیردارانہ نظام کے خلاف جہدوجہد کرنا ہے انہوں نے کہا کہ پنجگور اب علم کا گیٹ وے بن چکا ہے اور تعلیم کے حوالے سے پنجگور کو مذید اگے لیکر جائیں گے میڈیکل اور انجنئیرنگ کالجز بی این پی عوامی کے منشور کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ سیاست وہ ہونی چائیے جس سے عام عوام کو ریلیف روزگار اور سہولتیں ملیں مگر بدقسمتی سے ہمارے مخالفین اسکا غلط تشریح کرکے صرف اقتدار کے لیے استعمال کررہے ہیں نیشنل پارٹی میں ٹکٹوں پر جنگ انکا اپنا مسلہ ہیپنجگور کے باشعور عوام اپنی قسمت کا فیصلہ ایسے ہاتھوں میں ہر گز نہ دیں جنکی کوئی سمت نہیں ہے اور وہ بعد میں جاکر ایک اور 2013 ثابت ہوسکیں بی این پی عوامی اپنے منشور پر قائم ہے اورجس منشور کا پرچار ہم کرچکے تھے اس پر ثابت قدم رہے اور آئندہ بھی بلوچ سرزمین اور انکے اجتماعی مفادات کے تحفظ کو اولیت دے کر انکے حقوق کے لیے جہدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے سیاسی ورکروں کی بی این پی عوامی کے پروگرام سے متفق ہوکر جوق درجوق شمولیتوں سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بلوچستان میں اگر کوئی جماعت ہے جو عوام کی صحیح معنوں میں آواز بن کر خدمت کررہی ہے وہ صرف بی این پی عوامی ہے جو اپنے سیاسی کردار سے یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ بلوچ سرزمین سے مخلص ہے اور ان لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انکو اٹھانے کی کوشش کررہا ہے جو اپنے جائز حقوق سے محروم رہے انہوں نے کہا کہ ہم پنجگور کے گھر گھر کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں زرعی کالج پنجگور جو بی این پی عوامی نے دس سال پہلے منظورکروایا تھا نیشنل پارٹی اسکے فنڈز کو منجمد کرکے کام نہیں رکواتا تو آج اس کالج سے دو پیچز یعنی دو ہزار بچے بچیاں استفادہ کرچکے ہوتے یہ سوچ ہے ان قوم پرستوں کی جو ہمیشہ قوم کے اجتماعی ترقی اور ایجوکیشن کے آگے رکاوٹ بنے رہے انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی کے دور کے اجتماعی اسکیمیوں کو روکنے سے نقصان پنجگور کے عوام کا ہوا تعلیم صحت کی اسکمیں پس پشت چلی گیں انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی نے ابھی جو ادارے منظور کروائے ان میں روزگار کے مواقعے بھی موجود ہیں اور بی این پی عوامی نے ہر وقت ان کاموں کو فوکس کیا ہے جن سے عوام کو مستقل سہولتیں اور روزگار ملے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا ہیلتھ منسٹر رہا تعلق بھی پنجگور سے تھا ہیلتھ کے حوالے سے کوئی ایک کارکردگی بھی نہیں دکھاسکتے ہیلتھ انکے دور میں زوال کی طرف گیا جس وقت صوبے کا وزیراعلی بھی انکا اپنا تھا اب کیسی تبدیلی لائیں گے عوام خود فیصلہ کریں۔
سیاسی بھکاریوں کے پاس بلوچستان اور بلوچ قوم کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے ، میر اسداللہ بلوچ

ٹیگز:
میر اسداللہ بلوچ
