کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراونشل منیجر ڈاکٹر خالدالرحمان قمبرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جوکہ ہم سب کے لئے تشویش ناک بات ہے۔بلوچستان میں ایڈز کے وباء کوہر صورت کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے اس سلسلے میں عوام الناس میں اویرنیس پیدا کرنے کے لئے اس سال صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام نے پندرہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے آفس میں اس سال عالمی ایڈز ڈے کے حوالے سے سرگرمیوں کے انعقاد کو حتمی شکل دینے کے لئے ایڈز کنٹرول پروگرام اور نیٹ کے ممبر تنظیموں کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کی جانب سے امان اللہ کاکڑ سوشیو پاک، وطن یار خلجی اساس پی کے، مشتاق مینگل رہنماء ایف پی اے پی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پی اے سی پی کی جانب سے ڈپٹی منیجر ڈاکٹر داؤد خان اچکزئی محمد خان زہری اشفاق خان یاسین زئی اور عبدالروف کیازئی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ صرف کوئٹہ میں پچھلے سال کی نسبت اس سال مریضوں کی تعداد میں ڈھائی سو اضافہ ہوا ہے جوکہ الارمنگ صورتحال ہے۔اس طرح ھائی رسک اضلاع میں بھی ایڈز کے مریضوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ چکی ہے۔ کوئٹہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اس سال ایڈز کے عالمی دن کو بھرپور انداز میں منانے کے لئے مہم کا آغاز 25 نومبر سے کیا جائیگا اور یہ مہم دس دسمبر تک جاری رہیگا۔ اس مہم کے دوران مختلف سیمینارز اور آگہی سیشنز منعقد ہونگے۔جبکہ ریڈیو اور ٹی وی سے مختلف علاقائی زبانوں میں بھی آگہی پروگرامز نشر ہونگے۔ یکم دسمبر کو عالمی یوم ایڈز پر ایک گرینڈ تقریب کا انعقاد کیا جائیگا۔جبکہ لوگوں میں اویرنیس پیدا کرنے کے لئے دیگر مختلف نوعیت کی سرگرمیاں منعقد ہونگی۔ پراونشل منیجر ڈاکٹر خالد قمبرانی نے کہا کہ ایڈز کی وباء میں اضافہ ہم سب کے لئے تشویش ناک ہے۔ حکومت بلوچستان صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کو اس وباء کی روک تھام کے لئے وسائل فراہم کریں جبکہ دیگر ڈونر ادارے بھی آگے آئیں تاکہ بلوچستان میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے سایے کو کنٹرول کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈز انجکشن کے ذریعے نشہ استعمال کرنے، کسی مریض کو خون کی فراہمی میں احتیاط اور خون کا ٹیسٹ نہ کرنے اور باالخصوص جنسی بے راہ روی اور خاص کر آج کل کوئٹہ میں ٹرانس جینڈر اور باہر سے آئے ہوئے نوجوان اوباش لڑکوں کی وجہ بھی پھیل رہا ہے۔ ایڈز کے وباء کو کنٹرول کرنے کے لئے تمام طبقات کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سال 2023 کا دنیا بھر میں تھیم کمیونٹی کو اس حوالے سے آگے بڑھنے اور لیڈر شپ سنبھالنے کا ہے۔ہم سب نے کمیونٹی کو موبلائز کرنا کرنا ہے۔ ڈاکٹر داؤد اچکزئی نے کہاکہ صوبائی سطح پر ہمارے نیٹ ورک کی ممبر تنظیموں نے ہر وقت ایک بہترین رول ادا کیا ہے۔ ایچ آئی وی ایڈز کے وباء کو روکنا ہمارے ادارے کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ علماء کرام اساتذہ کرام سیاسی جماعتوں عوامی نمائندوں اور تمام سول سوسائٹی کا فریضہ بنتا ہے۔
بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جوکہ ہم سب کے لئے تشویش ناک بات ہے،ڈاکٹر خالدالرحمان قمبرانی

ٹیگز:
ایڈز
