کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلو چستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ سابق صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے غیر جانبدار انہ انتخابات کی ضرورت ہے جمہوریت کے چلنے سے ہی انتخابات صاف اور شفاف ہونگے،انتخابات کو سبوتاژکرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہم جمہوریت اور پرامن ماحول کے خواہاں ہیں، بی این پی (عوامی) کے کارکن پارلیمانی سیاست کررہے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ناروا سلوک رکھا جارہا ہے، چور دروازے یا پیراشوٹ کے ذریعے نہ کامیاب ہوئے ہیں اور نہ کسی کو ہونے دینگے، اگر ہمارے ورکرز اور ووٹرز کے خلاف سرکاری مشینری استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت احتجاجی تحریک چلائیں گے۔یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ میں اپنی رہائشگا ہ پر پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ جب سے ملک بنا ہے مختلف ادوار میں انتخابات کے نتائج کوچیلنج بھی کیا گیا ہے،ریاست کی بھاگ دھوڑ کو آگے لے جا نے کی خاطرفلسفہ جمہوریت کو پھلنے اور پھولنے کے لئے قدغن لگانا نیک شگون نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اگر جمہوری عمل کو چلنے دیا جائے تو گند صاف ہو تا رہے گا جس کے بعد جا کر صحیح لوگ،صحیح رزلت سامنے آسکے گا اور ملک میں ہر سطح پر بہتری بھی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ چند ماہ قبل پارٹی میں محمد یاسین زہری نا می شریف کاروباری شخصیت نے شمولیت کی ہے جنہیں مختلف طریقے تنگ کر نے کی کوششیں کی گئیں جس کے خلاف اسمبلی کے فلور پر آواز بلند کی تھی اور اسپیکر بلو چستان اسمبلی نے آئی جی پو لیس بلو چستان کو طلب کر نے رولنگ بھی دی تھی جس پر آئی جی پو لیس بلو چستان نے مجھے خود فون کرکے کہا کہ آپ کے پارٹی کا کارکن کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں لیکن بدقسمتی سے ایک مر تبہ پھر پولیس کی جانب سے دوبارہ اس ہی غیر قانونی کیس میں حراست میں لیا گیا۔آئی جی پو لیس بلو چستان اپنے بیان پر بر قرار ہیں الیکشن سے قبل بی این پی (عوامی) کے کارکنوں کو تنگ کرنا ایک سازش ہے، عوام کو طا قت سے اپنی جدو جہد کو جا ری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن سے قبل سیا سی رہنماؤں کوتنگ کرکے غلط انداز میں ہماری راہ ہمورا کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے بلو چستان نیشنل پارٹی (عوامی)جمہوری عمل کو بہتر انداز میں آگے لیکر بڑھ رہی ہے ہم تشدت، بلک میلنگ کی سیاست سے نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم بلو چستان میں پر امن ماحول دیکھنا چاہتے ہیں ہم کسی سیا سی جماعت کے خلاف نہیں لیکن مینڈیٹ اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے اگر ہمارے سیا سی ورکروں کوتنگ یا پھر ریاست کی جانب سے ووٹوں کے خلاف مشنری کو استعمال کیا گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان نیشنل پارٹی (عوامی) کو دیوار سے لگا نے کو شش کی جا رہی ہے پنجگور کے 80فیصد لوگ بی این پی (عوامی) کے ساتھ ہیں ہم پار لیمانی سیاست کر رہے ہیں اور بلو چستان کے امن وامان کی خاطر اپنی جدو جہد جا ری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات کے اپنے طریقے کار ہو تے ہیں ہم کبھی چور دروازے سے یا پھر پیروشوٹ کے ذریعے اسمبلی میں نہیں آئے اور نہ ہی ہمیں اس طرح کی سیاست کا شوق ہے، انتخابات میں جن لوگوں کوٹھپہ لگا کر لایا گیا اس سے ملک اور صوبے کو کبھی فائد نہیں پہنچا ہے بلکہ انہوں نے ہمیشہ کرپشن کا بازار گرم کیا ہے جس سے عوام کو نقصان پہنچا ہے بے روزگارنوجوانوں کا مسئلہ کسی نے حل نہیں کیا، عوام کے حقیقی نمائند ے عوام کو جواب دے ہیں جب انہیں ووٹ ملتے ہیں تو وہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو گزشتہ 75سالوں سے تجر بہ گاہ بنا دیا گیا لیکن پھر بھی کوئی رزلٹ حاصل نہیں ہوابلکہ الٹا ملک کی معیشت سکڑ چکی ہے 22کروڑ عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی قانون سازی کے لئے ہو تی نہ کہ کرپشن کا بازار گرم کر نے کے لئے بلو چستان کے غریب لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں اور خود کشی پر مجبو ر ہو چکے ہیں آنے والے انتخابات میں قابل ٹیم کو آنا چاہیے جو عوام کے مسائل حل کر نے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلو چستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جس کی احساس محرومیوں کو ختم کر نے کے لئے شفاف الیکشن،غیر جانبدار طریقے کو آپنا نے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
بلو چستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جس کی احساس محرومیوں کو ختم کر نے کے لئے شفاف الیکشن انتہائی ضروری ہے، میر اسد اللہ بلوچ

ٹیگز:
میر اسد اللہ بلوچ
