اوتھل (ڈیلی گرین گوادر) پاکستان کوسٹ گارڈز ایمبولینسز اور ایمر جنسی سروسز پر مامور گاڑیوں کو چیکنگ کے لئے نہیں روکتی، سوشل میڈیا پر ایمبولینس کو روکنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں،گزشتہ ایک سال کے دوران آرسی ڈی اور کوسٹل ہائی ویز پر 50 کے قریب مختلف قسم کے ٹر ٹریفک حادثات 500 زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی گئی، پاکستان کوسٹ گارڈز کے جاری پریس ریلیز کے مطابق مورخہ 04 اور 05 نومبر 2023 کی درمیانی رات آرسی ڈی ہائی وے پر وندر کے قریب آٹھ کلومیٹر کراچی کی طرف ایک ڈیزل سے بھرا ہوا ٹرک رجسٹریشن نمبر 208-FDA ڈرائیور آصف) حادثے کا شکارہو کر روڈ پر الٹ گیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمد ورفت معطل ہوگئی اور مقامی پولیس کو بر وقت مطلع کر کے ٹریفک بحال کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔اسی دوران کوئٹہ سے کراچی آنے والی ایمبولینس اور دیگر کئی گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئیں جس کی اطلاع ملتے ہی کوسٹ گارڈز نے ریسکیو ٹیموں کے زریعے ایمبولینس کو راستہ بنا کردیا یاد رہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز ایمبولینس اور ایمر جنسی سروسز پر مامور گاڑیوں کو چیکنگ کے لیے نہیں روکتی۔ سوشل میڈیا پر ایمبولینس کو روکنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ایمبولینس ٹریفک حادثے کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار ہوئی ایمبولینس میں موجود ڈاکٹر کے ڈیوٹی افسر سے رابط کرنے پر پاکستان کوسٹ گارڈز نے بروقت مدد مہیا کرتے ہوئے ایمبولینس کو راستہ فراہم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ پاکستان کوسٹ گارڈز عوامی فلاح بہبود کے کاموں کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل رہتی ہے اور اپنی چیک پوسٹ پر طبی امداد کے لئے نہ صرف ہسپتال قائم کر رکھا ہے بلکہ کوسٹل ایریا میں اکثر فری میڈیکل کیمپس کا بھی انعقاد کرتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر قسم کے ٹریفک حادثات میں ریسکیو کا کام بھی انجام دیتی ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران آرسی ڈی اور کوسٹل ہائی ویز پر 50 کے قریب مختلف قسم کے ٹر ٹریفک حادثات 500 زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ آئیدہ بھی اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہ کر ہر قسم کی امداد مہیا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایمبولینس کو روکنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، پاکستان کوسٹ گارڈز

ٹیگز:
پاکستان کوسٹ گارڈز
