لاہور (ڈیلی گرین گوادر) عالمی بینک نے پاکستان پبلک ایکسپنڈیچر رپورٹ 2023 جاری کردی، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مالیاتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ بڑھنے سے مالی اور قرضوں کی پائیداری کو خطرہ لاحق ہے، وفاقی حکومت کے اضافی اخراجات قومی مالیاتی خسارے کی بڑی وجہ ہیں، وفاقی حکومت کے بینکوں سے قرض لینے سے سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک نے نجکاری کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں، سیاست یا عدالتوں میں کیسز سے نجکاری کا عمل متاثر ہو گا، پاکستانی حکومتی کمپنیوں کا منافع جنوبی ایشیائی ممالک میں سب کم ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی کمپنیوں کا 2014 میں منافع جی ڈی پی کے 0.8 فیصد تھا ،2020 میں انکے نقصانات جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر تھے، پاکستان کا نجکاری پروگرام 2007 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے رک گیا ہے ۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاکستان اسٹیل ملز اور ریکو ڈک فیصلوں سے پاکستان کا عالمی سطح پر معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے، پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے مختلف اداروں کی نجکاری میں مزید تاخیر ہوئی ہے پاؤر سیکٹر کے اداروں کی نجکاری لیبر یونین کی وجہ سے نہ ہو سکی، کے الیکٹرک کی کارکردگی نجکاری کے بعد بھی عدم اطمینان بخش رہی، سیاسی جماعتیں بھی نجکاری پروگرام پر متفق نہیں ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی کمپنیوں کو دوسرے ملک کی حکومتی کمپنیوں کو نجکاری کیخلاف عدالتوں میں کیسز کا امکان ہے، حکومتی کمپنیوں کے حصص کو پہلے اسٹاک مارکیٹ پر لایا جائے، حکومتی کمپنیوں کے حصص کی بعد میں شفاف انداز میں نجکاری کی جائے ۔

