کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات نومبر یا فروری میں کرائیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جنوری کے مہینے میں سخت سردی پڑتی ہے شیرانی ہرنائی کے بعد چمن کے نشست کو یہاں سے شفٹ کرنے کے خلاف الیکشن کمیشن جائیں گے 2018کی طرز پر انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے صاف شفاف انتخابات کرائے جائے تاکہ عوام اپنے ووٹوں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں مستونگ خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ایک سازش کے تحت مذہبی جماعتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ سابق صوبائی وزیر مولوی غلام سرور عین اللہ شمس سابق اراکین اسمبلی میرذابد ریکی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اپنے مدت پوری کرنے کے بعد ملک میں نگران سیٹپ وجود میں آچکا ہے کچھ عرصے سے سیاسی سرگرمیاں ماند پڑی تھی تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے اعلان کے بعد ہمارے صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا اجلاس میں مختلف امور پر تفصیلی سے غور و عوض کیا انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام اس وقت بھی انتخابات کیلئے تیار تھی جب عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی لیکن اتحادی جماعتوں کے مطالبے پر ہم حکومت کا حصہ بنے انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے عمران خان کے خلاف بیانیہ نو مئی کے فسادات کے بعد درست ثابت ہوگیا انہوں نے ملک کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا تاہم 16مہینے کے طویل جدو جہد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا انہوں نے کہا کہ چمن کے نشست کو پنجگور لے جانے کے خلاف الیکشن کمیشن میں جائیں اس سے قبل ہرنائی اور شیرانی کے نشست کو بھی لے جایا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے امن وامان کے حوالے سے مولانا واسع نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حالت مخدوش ہیں پہلے حافظ حمداللہ پر حملہ کیا گیا اس کے بعد عید میلاد النبی کے جلوس پر مستونگ میں خود کش حملہ کیا گیا ہنگو میں مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہیں دونوں صوبوں میں مذہبی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہیں ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ بلوچستان مسئلے کا حل شفاف انتخابات ہیں تاہم اگر 2018کی طرح انجینئر ڈ الیکشن کرائے گئے تو ان کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ چمن ہرنائی اور شیرانی حلقوں کے خلاف عدالت جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے اور اپنا احتجاج درج کرائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جنوری میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اکثریت علاقوں میں برف باری ہوتی ہے جس کی وجہ سے عوام اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتے اس لئے نومبر میں انتخابات کرائیں جائے۔
الیکشن کمیشن انتخابات نومبر یا فروری میں کرائیں،مولاناعبدالواسع

ٹیگز:
مولاناعبدالواسع
