نئی دہلی: ہریانہ کے علاقے میوات میں پیر کو فرقہ وارانہ تشدد کے بعد گروگرام کے سیکٹر 57 میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ اس حملے میں امام مسجد محمد سعد شہید ہوگئے جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہے۔
انڈین پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جب مسجد پر حملہ ہوا تو وہاں سیکیورٹی کے لیے پولیس فورس تعینات تھی لیکن حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی اور انہوں نے اچانک فائرنگ شروع کردی۔ پولیس واقعے سے متعلق ویڈیوز اکٹھی کر رہی ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ کچھ مشتبہ حملہ آوروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اس سے قبل ہریانہ کے ضلع نوح کے میوات علاقے میں پیر کو مذہبی یاترا کے دوران دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں 5 افراد ہلاک اور تقریباً 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم انڈین میڈیا کا دعویٰ ہے کہ کل رات کے واقعہ کے بعد سے پورے گروگرام میں فرقہ وارانہ تشدد کی کوئی خبر نہیں ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ محمد سعد گذشتہ 7 ماہ سے نذر آتش کی گئی مسجد میں نائب امام تھے، ان کی عمر محض 22 سال تھی۔ مقامی تھانے کی پولیس ٹیم ہمارے پاس آئی تھی اور ہمیں بتایا تھا کہ مسجد کی سیکیورٹی پولیس کرے گی۔ ہمیں بتایا گیا کہ پولیس کی ٹیم مسجد میں ہی موجود ہوگی۔ جب ہم نے مسجد کے امام اور یہاں رہنے والے دو دیگر ملازمین کے بارے میں بات کی تو پولیس نے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہم مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد سے واپس آئے تھے۔ پولیس بھی موجود تھی۔ پھر اچانک 12 بجے سے 12.30 بجے کے درمیان مسجد پر حملہ ہوا۔ پہلے مسجد کے کیمرے توڑ دیے گئے اور پھر آگ لگا دی گئی۔ مسجد کے امام کو حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا جبکہ خورشید نامی زخمی شخص آئی سی یو میں ہے۔

