کوئٹہ (گرین گوادر نیوز) پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بولان میڈیکل اسپتال کے لئے طبی ساز و سامان کی فراہمی سروسز کی بہتری میں معاون ثابت ہوگی اور بی ایم سی کے سنٹرل سٹریلائزیشن ڈیپارٹمنٹ میں نئی مشینری کی فراہمی سے طبی آلات اور عمل جراحی میں زیر استعمال اشیاء کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صفائی کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ کے ہمراہ بی ایم سی کے لئے بائیو سیفٹی کیبنٹ اور ایمبولینس فراہمی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر میر نور اللہ خان موسی خیل، ڈبلیو ایچ او کوئٹہ کے اسفند یار شیرانی و دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کی معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں اور اس مقصد کے لئے ہیلتھ سیکٹر میں ٹھوس اصلاحات لائی جاررہی ہیں، کوویڈ کی عالمی وباء کے دوران ایسے چیلنجز کا سامنا رہا جس سے ہمیں روایتی طبی سروسز سے ہٹ کر بہت سے نئے چیلنجز کے مطابق طبی حکمت عملی کو از سر نو مرتب کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان ہیلتھ سیکٹر کو محض تنخواہیں دینے والے ایک محکمہ کے طور پر چلایا گیا، ہماری کوشش ہے کہ طبی سروسز کے معیار اور دائرہ کار کو عام آدمی کی دسترس تک لایا جائے کیونکہ پاکستان میں ایک مزدور پیشہ خاندان کی اوسط آمدن کا ایک بڑا حصہ علاج معالجے کی نظر ہوجاتا ہے اگر سرکاری علاج گاہوں میں معیاری اور قابل اعتماد طبی خدمات میسر ہوں تو غریب افراد کے علاج معالجے پر اٹھنے والے غیر معمولی اخراجات دیگر سماجی ضروریات کے لئے خرچ ہوسکتے ہیں اور اس سے غربت کے حالات میں بہتری ممکن ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے ویژن کے مطابق محکمہ صحت میں سروسز کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ سو فیصد نہ سہی اس حد تک سروسز کی بہتری ممکن بنائی جائے جس سے غریب افراد کو مناسب طبی ریلیف بروقت مل سکے اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ڈبلیو ایچ او کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحت کی معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی معاونت نتائج کے حصول میں معاون ثابت ہوگی پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ نے بی ایم سی میں سنٹرل سٹریلائزیشن ڈیپارٹمنٹ، آر او پلانٹ اور کوویڈ وارڈ کا بھی دورہ کیا اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے فراہم کردہ طبی سامان کے مصرف کا جائزہ لیا میڈیکل سپریٹنڈنٹ بی ایم سی ڈاکٹر میر نور اللہ خان موسی خیل نے پارلیمانی سیکرٹری صحت اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے کو اسپتال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ اسوقت کوویڈ وارڈ میں 13 مریض داخل ہیں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی ہدایت کے مطابق گیارہ سو بیڈڈ اسپتال میں مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام شعبے فعال ہیں اور سروسز کو بہتر سے بہتر بنایا جارہا ہے بہتری کا یہ تسلسل جاری رکھا جائیگا اور پارلیمانی سیکرٹری صحت کی جانب سے ہمیں بہتری کا جو ہدف دیا گیا ہے اس پر پورا اترنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ہمیں یقین ہے کہ بہتری کا یہ عمل عام آدمی کو معیاری طبی سروسز کی فراہمی سے عملا ثابت کریں گے ایم ایس نے بتایا کہ 1978 کے بعد پرچیزنگ نہ ہونے کے باعث سی ایس ڈی کی بعض مشینری زائد المعیاد ہوچکی ہے اسپتال میں سی ایس ڈی مشینری، آکسیجن جنریٹڈ پلانٹ اور دیگر اہم طبی لوازمات درکار ہیں پارلیمانی سیکرٹری صحت نے انتظامی امور اور طبی سروسز کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر نور اللہ موسی خیل کی محنت اور کارکردگی کو سراہا اور یقین دلایا کہ اسپتال کو درکار طبی ساز و سامان کی فراہمی کے لئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
بلوچستان میں صحت کی معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدی

ٹیگز:
ڈاکٹر ربابہ بلیدی
