کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)،حکومت بلوچستان اور ہاؤس آف کاسب کنسورشیم کے مابین ڈام میں بلوچستان کے پہلے تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی کاوشوں سے طے پانے والے اس معاہدے کو صوبے میں نجی سرمایہ کاری، ساحلی معیشت کے فروغ اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی میں ہاؤس آف کاسب کنسورشیم کے چیف ایگزیکٹو سعد زاہد اور سیکرٹری محکمہ ماہی گیری طارق قمر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ڈام میں صوبے کے پہلے تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس سے ساحلی وسائل کو بروئے کار لانے اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع ساحلی پٹی معاشی ترقی، آبی زراعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے نمایاں امکانات رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید طریقوں، نجی سرمایہ کاری اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جائے۔ جھینگا فارمنگ کا منصوبہ اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف ایک نئی تجارتی سرگرمی متعارف ہوگی بلکہ مستقبل میں اس شعبے کو وسعت دینے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی معاشی ترقی کا عمل اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچیں۔ ڈام کے منصوبے میں 100 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کرنے کا عزم اس حوالے سے اہم ہے۔ اس سے ساحلی علاقوں کے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے روزگار، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں۔ حکام کے مطابق منصوبے کے تحت نجی شعبہ ایک ارب 11 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ابتدائی مرحلے میں 50 ایکڑ اراضی پر تجارتی جھینگا فارم قائم کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اسے 100 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے تک توسیع دینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ منصوبے کے ذریعے برآمدی معیار کے جھینگوں کی پیداوار کو فروغ دینے اور بلوچستان میں آبی زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔حکومت بلوچستان منصوبے کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی زمین اور 40 کروڑ روپے مالیت کی بجلی کی سہولت فراہم کرے گی، جس کے تحت حکومتی معاونت کی مجموعی مالیت 47 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے۔ منصوبے میں حکومت بلوچستان کا مجموعی ایکویٹی حصہ 20 فیصد ہوگا، جس میں مسابقتی بولی کے ذریعے حاصل کردہ 10 فیصد مفت ایکویٹی اور زمین و بجلی کی سہولت کے عوض 10 فیصد ادا شدہ ایکویٹی شامل ہے۔منصوبے کی 20 سالہ آپریشنل مدت کے دوران حکومت بلوچستان کو 86 کروڑ 60 لاکھ روپے منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کی مجموعی رعایتی مدت 21 سال 6 ماہ مقرر کی گئی ہے، جس میں مالیاتی امور کی تکمیل کے لیے چھ ماہ، تعمیرات کے لیے ایک سال اور آپریشن و دیکھ بھال کے لیے 20 سال شامل ہیں۔ رعایتی مدت مکمل ہونے پر منصوبہ اور اس کے تمام اثاثے حکومت بلوچستان کو منتقل کر دیے جائیں گے۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ نے کہا کہ ڈام میں جھینگا فارمنگ کا منصوبہ صوبے کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ منصوبے سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ساحلی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈام میں تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کے معاہدے پر دستخط،معاہدہ سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،وزیر اعلیٰ بلوچستان

ٹیگز:
وزیر اعلیٰ بلوچستان
