پشاور(ڈیلی گرین گوادر)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے نہ صرف پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے بلکہ اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے ’عوامی مینڈیٹ‘ سے منتخب ’ملک کی واحد حکومت‘ کا خاتمہ کیا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتبور کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد حکومتی رہنماؤں نے متعدد مواقع پر صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون کو اس اقدام کا جواز قرار دیا۔
گورنر راج کے نفاذ کے ایک روز بعد اسلام آباد میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے اسی قسم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سیاسی مسائل کے حل اور ’جہمہوری پاکستان کی تشکیل کے لیے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘ لیکن خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف عوامی اور جمہوری جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔اس موقع پر بھی انہوں نے ’یقین دہانی‘ کرائی تھی کہ ان کی تحریک پُرامن ہوگی اور وہ نہ کسی کو گالی دیں گے، نہ گولی چلائیں گے اور نہ ہی کسی پر پتھر پھینکیں گے۔
آج کی پریس کانفرنس میں انہوں نے الزام لگایا کہ کہ 2024 کے انتخابات میں بندوق اور پیسے کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیا گیا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو انتخابی نشان سے محروم کرنے سمیت اسے اقتدار سے دور رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود پی ٹی آئی نے 97 سے زائد نشستیں جیت چکی تھی، تاہم اس کے کامیاب امیدواروں کے خلاف مقدمات اور سزاؤں کے بعد قومی اسمبلی میں اس کی تعداد کم ہو گئی۔محمود اچکزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معدنیات کے استعمال اور کسی بھی معاہدے سے پہلے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے اور انہیں ان کے وسائل میں حصہ دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے دریا گزرتا ہے، پانی پر پہلا حق وہاں کے لوگوں کا ہے، اور دعویٰ کیا کہ پختونخوا کے کسانوں کو اپنے علاقوں میں پانی تک رسائی نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون دنیا کا سستا ترین مزدور ہے، ”پشتونوں نے دبئی بنایا، سعودی عرب بنایا، لاہور اور کراچی بنایا۔۔۔ اس کے باوجود انہیں اچھا پاکستانی نہیں سمجھا جاتا۔“
محمود اچکزئی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا چاہیے اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خاتمے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے ’حراست‘ میں لیے گئے صوبے کے وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کو سامنے لانے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ اور بقا کے لیے ملک کے تمام اداروں کو آئین میں متعین کردہ کردار تک محدود رہنا چاہیے اور پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی آبادیوں کی سرزمین، زبان اور وسائل کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر گورنر راج کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مہذب معاشروں میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے لیکن جب انصاف کا نظام کمزور ہو جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا اور ”وطن سے محبت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے“۔
انہوں نے حکومت کے خلاف اپوزیشن پر کریک ڈاؤن کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہمارے محبت وطن ہونے پر سوال اٹھانے والے بتایں کہ ”کیا یہ وطن سے محبت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے گھروں میں گھسیں اور ان کی عورتوں، بچوں اور جوانوں کو جیلوں میں ڈالو اور ان کا مستقبل تاریک کرو۔“
انہوں نے جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو مظلوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حق چھینا گیا ہے اور ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے قیدیوں کو بھی ملاقات کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن عمران خان کو ان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مظلوم کے حق میں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے اور احتجاج کرنے والوں کے اعتراضات کا جواب گولیوں اور دہشت گردی کے مقدمات سے نہیں دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ “آج نہیں تو کل پرسوں ہمارے ہاتھ ان ظالموں اور ان کے ’ہیڈلرز‘ کے گریبان تک جائیں گے اور ہم مظلوموں کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔”
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) سردار اختر مینگل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مینڈیٹ سے قائم حکومت کو ختم کرنا قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں بھی متعدد فوجی آپریشن ہو چکے ہیں، لیکن ان کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے اور نوجوانوں میں بے چینی بڑھی ہے۔انہوں دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں لوگوں کی آواز دبائی گئی اور سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اختر مینگل نے ایمان مزاری اور علی وزیر کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کہ ملک کو نقصان پہنچانے والوں اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاتا۔
اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر زین شاہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے یا نئے صوبے بنانے کے بجائے جمہوری نظام بہتر بنانے اور شفاف انتخابات کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس میں شریک پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا کہ لانگ مارچ کی کال برقرار ہے، تاہم اس کی عملی تیاریوں اور قیادت سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گرفتاری کے خوف سے چھپ کر نہیں بیٹھیں گی۔
انہوں نے خواتین کے ساتھ سلوک اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں گرفتار کرنا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔
شاندانہ گلزار نے کہا کہ پاکستان کے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی جوانوں کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک کے اندر مختلف قومیتوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ان کے تحفظات دور کیے جانے چاہئیں۔

