لاہور (ڈیلی گرین گوادر) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کے دھرنے کا پانچواں روز جاری ہے۔ دھرنے میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور سمیت مختلف اضلاع کی خواتین، مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بچے بڑی تعداد میں شریک ہیں۔قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نےچئیرنگ کراس مال روڈ دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج پانچواں روز ہے، حلقہ لاہور سمیت ملک بھر کی خواتین امیر جماعت اسلامی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات کے لیے موجود ہیں۔ ہم 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لے کر کھڑے ہیں اور جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 26 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس مہنگائی کی بڑی وجہ عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومت کی عائد کردہ پٹرولیم لیوی ہے، ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس ختم کیا جائے۔ثمینہ سعید نے کہا کہ خواتین کا لیوی ٹیکس سے براہ راست تعلق ہے کیونکہ ایک خاتون کو گھر کا بجٹ چلانا ہوتا ہے، بچوں کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے، گھر کے دیگر اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے بجائے دن بدن مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن پنجاب میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم لاہور سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عوام کے مسائل حل کیے بغیر حکمرانوں کو چین نہیں لینے دیں گے۔ثمینہ سعید نے کہا کہ جماعت اسلامی حق اور عوام کی آواز بن کر کھڑی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن جس عزم، جذبے اور تیاری کے ساتھ میدان میں موجود ہیں، ہم اپنے جائز مطالبات منوا کر ہی واپس جائیں گے۔ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ایلفا نسل سے میری درخواست ہے کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں بلکہ مثبت کردار ادا کریں۔ وہ “کاکروچ پارٹی” نہیں بلکہ “جگنو” بن کر معاشرے کی تاریکی کو دور کر کے اندھیروں میں روشنی پھیلائیں اور حق کی آواز کا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، انہیں اپنے ملک کی تعمیر، بہتری اور انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید نے کہا کہ 22 اگست کو وسطی پنجاب اور دیگر اضلاع سے ہزاروں خواتین دھرنے میں شرکت کریں گی۔ آج نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، مایوسی اور بے روزگاری نے نوجوان نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جو نوجوان اپنے ملک میں روزگار کے مواقع نہ ملنے پر بیرون ملک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں، ان کے مسائل پر حکمرانوں کو توجہ دینی چاہیے۔ ماؤں کے دکھ اور نوجوانوں کی پریشانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔ ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران نے کہا کہ لاہور تعلیمی اداروں اور دفاتر کا شہر ہے۔ اتوار کے روز تعلیمی اداروں کی طالبات، اساتذہ، ورکنگ ویمن، وکلاء اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین دھرنے میں بھرپور شرکت کریں گی۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ایک طالبہ اور اس کے والدین کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ وہ فیس ادا کریں، کرایے دیں ۔یا بچوں کا پیٹ بھریں؟؟ -حکومت ان عوامی مشکلات کا احاطہ کب کرے گی-
مہنگائی کے طوفان نے گھروں کے چولہے بجھا دیے، عوام کا مقدمہ لے کر سڑکوں پر موجود ہیں، مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا: ثمینہ سعید کی پریس کانفرنس

ٹیگز:
ثمینہ سعید
