ژوب (ڈیلی گرین گوادر) ژوب میں منعقدہ جلسہ عام سے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، سابق ممبر بلوچستان اسمبلی ثمینہ سعید اور ناظمہ بلوچستان شازیہ عبداللہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان کی محرومیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بجٹ میں عوامی ترجیحات کے فقدان پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنی دولت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو مسلسل پالیسی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ان کے مطابق صوبے کے عوام صاف پانی، معیاری تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں، جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبے اکثر عوامی بہتری کے بجائے کاغذی دعوؤں تک محدود رہنے کا تاثر دیتے ہیں۔نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری اور ہنر کے مواقع کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے، جس سے احساسِ محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔وسائل سے مالا مال خطے میں غربت کا برقرار رہنا نظام کی کمزوری اور ترجیحات کے عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔بلوچستان میں فیصلوں کے عمل میں مقامی عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔اصل ترقی صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری سے جانی جاتی ہے۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں عدم توجہ کے باعث آنے والی نسلیں بھی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں۔خواتین کی تعلیم اور معاشی شمولیت کو نظر انداز کرنا کسی بھی معاشرے کی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔سیاسی شعور اور منظم عوامی آواز کے بغیر وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔ اصل تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب عوام اپنے حقوق کے لیے منظم، باشعور اور فعال کردار ادا کریں۔سابق ممبر بلوچستان اسمبلی ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کا موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا اور ترجیحات کا واضح عدم توازن دکھائی دیتا ہے۔تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی حالت فوری اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومتی سطح پر اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ وسائل پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا تسلیم کیا جانا ناگزیر ہے۔ریکوڈک اور دیگر بڑے منصوبوں کے ثمرات مقامی آبادی تک پہنچنا ضروری ہیں۔بجٹ کا اصل مقصد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں عملی بہتری ہونا چاہیے۔ناظمہ بلوچستان شازیہ عبداللہ نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے مگر عملی مواقع محدود ہیں۔ تعلیم یافتہ خواتین ہی معاشرتی تبدیلی کی اصل قوت ہیں اور حلقہ خواتین انہیں منظم کر کے معاشرے میں فعال کردار کے لیے تیار کر رہا ہے۔مقررین نے مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شدید محرومیوں کا شکار ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفاف نظام کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی شعور، منظم جدوجہد اور سیاسی بیداری کے ذریعے ہی بلوچستان کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
وسائل سے مالا مال بلوچستان مگر عوام اب بھی اپنے جائز حقوق سے محروم ` اصل تبدیلی شعور، تنظیم اور سیاسی بیداری سے آئے گی ` ڈاکٹر حمیرا طارق

ٹیگز:
ڈاکٹر حمیرا طارق
