کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان حکومت نے صوبے میں قومی شاہراہوں پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹیں فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں صوبے میں امن امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سکیورٹی چیکنگ کی آڑ میں سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں کے قیام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیاچیف جسٹس کا پشاور میں قائم تمام چیک پوسٹیں 24 گھنٹے میں ختم کرنے کا حکم
کوئٹہ میں قومی شاہراہوں پر واقع ایف سی کی تین چیک پوسٹیں ختم کابینہ نے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی سکیورٹی اداروں کو شاہراہوں پر قائم چیک پوسٹیں فوری طور پر ختم کرنےکی ہدایت کی۔ کابینہ نےکہا کہ آئندہ کوئی بھی ادارہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر شاہراہوں پر چیک پوسٹ قائم نہیں کرےگا، چیک پوسٹ کا قیام محکمہ داخلہ کی اجازت سے مشروط ہوگا، بسوں اور گاڑیوں میں سوار خواتین، بچوں، مریضوں اور بوڑھوں کو چیک پوسٹوں پر گھنٹوں روکا جاتا ہے، عوام کو سکیورٹی کی فراہمی حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے، چیک پوسٹوں کی آڑ میں عوام کی تذلیل کسی صورت قبول نہیں ہے۔
بلوچستان کابینہ کا کہنا ہےکہ دیگر صوبوں میں شاہراہوں اور شہروں کے اندر وفاقی سکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں تو بلوچستان میں بھی چیک پوسٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔کابینہ کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کی افادیت کبھی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی آج تک کوئی دہشت گرد بس سے گرفتار ہوا، سکیورٹی ادارے سماج دشمن عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کریں۔کابینہ نے پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کو منشیات فرشوں کے خلاف فوری آپریشن شروع کرنےکی ہدایت بھی کردی۔

