کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا ملی عوام پارٹی کے منشور و آئین، نظریات اور بنیادی فکر سے انکاری اور یو ٹرن لینے والاٹولہ پارٹی کے نام، جھنڈے اور انتخابی نشان کی ملکیت کے دعویدار اور وارث کبھی بھی نہیں ہوسکتے مرکزی کمیٹی کی مطلوبہ تعداد سے محروم اور الیکشن کمیشن میں مرکزی کمیٹی کی جعلی لسٹ اور جعلی کاروائی جمع کرکے جعلسازی، دھوکہ دہی جیسے جرم کا ارتکاب کیا ہے ان عقل کے اندھوں کاالیکشن کمیشن کے غیرقانونی اور غیر منصفانہ فیصلہ پڑھے بغیر اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرنا سیاسی دیوالیہ پن اور بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر ایم پی اے نصراللہ خان زیرے نے قلعہ سیف اللہ کے ضلعی کمیٹی کے اجلاس اور بعدمیں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے پہلے ضلعی کمیٹی کا اجلاس نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صوبائی سینئر نائب صدر اللہ نور، صوبائی سیکریٹری اطلاعات زمان خان کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز سلیمان خان بازئی اور سعید اکبر کاکڑ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں علاقائی یونٹوں کی گزشتہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور پارٹی میں لوگوں کی کشیر تعداد میں شمولیت کو خوش ا?ئند قرار دیا گیا۔ ا?ئندہ کیلئے اہم تنظیمی فیصلے کئے گئے جس میں عید کے بعد علاقائی کانفرنسوں کے انعقاد کا شیڈول جاری کرنا قابل ذکر ہے،اجلاس کے بعد افطار پارٹی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔اس موقع پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ خان زیرے نے کہا کہ پشتونخوامیپ جیسے منظم پارٹی کو بحران سے دوچار کرنے، پارٹی ا?ئین سے انحراف کرکے فیصلہ ساز اداروں کو مفلوج کرنے اور شاہی فرمانوں کے زریعے پارٹی چلانے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ا?ئین اور قانون کی باتیں کرکے پارٹی کارکنوں اور عوام کو گمراہ کریں کیونکہ نہ تو یہ ٹولہ پارٹی ا?ئین کی پاسداری کرتے تھے اور نہ ہی انکو مرکزی کمیٹی کے اکثریت کی حمایت حاصل تھی اسی لئے وہ پارٹی ا?ئین اور فیصلہ ساز اداروں کو بائی پاس کرکے غیر ا?ئینی طریقوں اور حربوں کو استعمال کرتے اور شاہی فرمانوں کے زریعے اپنے ذاتی انا اور پسند کیفیصلے مسلط کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک پر قبضہ کرنے والے پراپرٹی ڈیلرز اور پارٹی منشور و ا?ئین اور نظریات کے منحرفین کسی طور پر بھی پارٹی کے نام، جھنڈے اور انتخابی نشان کے وارث نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کو دولخت کرنے والے اس کوتاہ اندیش ٹولے نے پارٹی دستور سے انحراف کرتے ہوئے خفیہ طریقے سے مرکزی کمیٹی کے اراکین کے اقلیتی تعداد کو اکٹھا کرکے افراتفری میں غیر ا?ئینی اور غیر قانونی کانگرس کے انعقاد کا اعلان کیا اور پھر مرکزی کمیٹی کے اراکین کے نام اور فوٹو شائع نہ کرکے اس بات کی تصدیق کردی کہ انکو مرکزی کمیٹی کے اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے اراکین کے نام پر جعلی لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اگر ان کے دعوے میں صداقت ہے تو اب بھی انکی طرف سے منعقد کردہ مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں شامل اراکین کے گروپ فوٹو یا ویڈیو کلپ کو شائع کرکے حقیقت واضح کی جاسکتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پارٹی کے تمام ضابطوں اور طریقہ کار سے روگردانی کرتے ہوئیزئی و خیلی کا جانسہ اور واسطہ دیکر قبائلی اجتماع منعقد کیا گیا اور اس کو قومی کانگرس کا نام دیکر سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا۔جبکہ دوسری جانب ہم نے مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا ور اتفاق رائے سے فیصلے کییاور ایک پرہجوم پریس کانفرس میں مرکزی کمیٹی کے اکثریتی اراکین کی موجودگی میں قومی کانگرس کا اعلان کیا اور پارٹی کے طریقہ کار کے مطابق قومی کانگرس کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مندوبین نے حصہ لیا اور رہنما اداروں کا انتخاب کیا۔ پارٹی کے 27-28 دسمبر کو منعقدہ کامیاب قومی کانگرس کے انعقاد کے بعد تنظیم سازی اور لوگوں کی جوق در جوق شمولیت نے اقلیتی اور سازشی ٹولے کی نیندیں حرام کردی ہے اور بوکھلاہٹ میں بیسروپا اور حقائق کے برخلاف بیانات جاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں جعلی دستاویزات جمع کرکے انکو دھوکہ تو دیا جا سکتا ہے اور قومی اہداف پر سمجھوتہ اور سازباز کرکے اور مختلف حربے استعمال کرکے کمیشن کا فیصلہ اپنے حق میں تو تبدیل کرسکتے ہیں لیکن عوامی اعتماد کی بحالی اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانا شاید ناممکن ہے۔
الیکشن کمیشن کے غیرقانونی اور غیر منصفانہ فیصلہ سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرنا بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں ، نصراللہ زیرے

