کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتو کو تعلیمی اور سرکاری زبان تسلیم کئے بغیر احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا محکوم قوموں کے بنیادی حقوق سے انکا ر کی روش کو نہ بدلا گیا تو ریاست کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا جنکی تمام تر ذمہ داری پنجابی استعماری قوتوں پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے دربار ہال میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار میں کیا جس کی صدارت پشتونخوا میپ کے صوبائی سیکریٹری خوشحال کاسی نے کی۔ سیمینار سے پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات زمان خان کاکڑ، صوبائی سیکریٹری مالیات علی ترین، صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز ڈاکٹر صلاح الدین کاکڑ، پروفیسر اسد ترین، عید محمد موسی خیل، صوبائی کمیٹی کے رکن ظاہر لالا، حمیداللہ سیال اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر رفیع اللہ پشتون نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں روز اول سے قوموں کے وجوداور انکی مادری زبانوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور بغیر کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے تمام ملک پر اقلیتی زبان اردو کو جبرا مسلط کیا گیا جسکی وجہ سے محکوم قوموں میں احساس محرومی نے جنم لیا اور اس فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا اور اس سلسلے میں بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں 21 فروری 1952 کو مادری زبان بنگلہ کو سرکاری زبان تسلیم کرنے کے حق میں مظاہرہ ہوا اس حق کی پاداش میں مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اور اس واقع میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ انہی مظالم اور حقوق سے انکار نے بنگلہ دیش کے عوام کو 1971 میں آزادی لینے پر مجبور کیا اور قائداعظم کا پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا اور انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا جب ایک اکثریت نے اقلیت سے جان چھڑا کر اپنے قوم کی آزادی کو یقینی بنایا۔ پاکستان توڑنے کے ذمہ دارو ں اور ذمہ دار اداروں نے اس سانحے سے بھی سبق نہیں لیا اور استعماریت کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے قوموں کے حق خودارادیت اور حق حاکمیت سے مسلسل انکارکرکے ملک کو شدید بحرانوں سے دوچار کردیا ہے۔ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک اس وقت معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے اور ہر لحاظ سے تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے لیکن پھر بھی اس کے حکمران اور مقتدرہ قوتیں حالات کا ادراک کرنے سے قاصر اور ماضی کی طرح خوش فہمی کا شکار ہے۔ مقررین نے کہا کہ مادری زبانوں کی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1999 میں 21 فروری کو مادری زبانوں کے بین القوامی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا اورسال 2000 سے یہ دن تمام دنیا میں منایا جاتا ہے اور اس دن دانشور، سکالرز اور محققین مادری زبانوں کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں اور حکومتوں کی توجہ مادری زبانوں میں تعلیم دینے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہم بھی یہ دن اسی مناسبت سے منارہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مادری زبانوں کی اہمیت سے انکار اور اسکو تعلیم کے حصول کا زریعہ نہ بنانے سے بچوں کے بنیادی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہورہی ہے اور ساتھ ہی بچوں کے پڑھنے، سیکھنے اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جسکی وجہ سے بچوں کا تعلیم میں دلچسپی نہ لینے، فیل ہونے اور حتی کہ سکول چھوڑنے جیسے نتائج برآمد ہورہے ہیں اور استادوں کو بھی پڑھانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پشتو کو پرائمری کے سطح پر تعلیم کا زریعہ بنا کر مستقبل میں تما م تعلیمی نصاب اور عصری علوم کو مادری زبان پشتو میں منتقل کیا جائے اور پشتو کو سرکاری زبان تسلیم کرکے زندگی کے ہر شعبے میں اسے لاگو کیا جائے۔ مقررین نے پشتو زبان پڑھنے اور پڑھانے والوں پر زور دیا کہ وہ مادری زبان سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے پہلے اپنے گھر والوں کو پڑھانے سے آغاز کریں اور رفتہ رفتہ قوم کے دیگر خواہش مند افراد تک پشتو پڑھانے کے کام کو دوام دیکر قومی فرض ادا کریں۔
پشتو کو تعلیمی اور سرکاری زبان تسلیم کئے بغیر احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
