لاہور(ڈیلی گرین گوادر)لاہور ہائی کورٹ میں پرویزالہی کو وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عابد عزیزشیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کررہا ہے۔
دوران سماعت جسٹس عابد عزیزنے پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا،’اب کیا صورت حال ہے؟معاملہ ابھی حل نہیں ہوا؟‘ جس پروزیراعلی پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ تمام مسائل عدالت میں حل ہوں گے۔گورنرپنجاب بلیغ الرحمان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ‘عدالت نے پرویزالہی کو کافی وقت دیا ہے ۔ان کا نکتہ یہی تھا کہ مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کے لیے عدالت نے اعتماد کا ووٹ لینے کا راستہ بھی کھلا رکھا تھا۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’گورنر وزیراعلی کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ تو سکتا ہے۔ آخر میں تو اراکین نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعلی بن رہ سکتا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر بتا دیں کہ اعتماد کے ووٹ کے لیے کتنا وقت مناسب ہو سکتا ہے۔ ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔ ‘جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے پاس پوراموقع تھا کہ اتنے دن میں اعتماد کا ووٹ لے لیتے۔ وزیر اعلی کے پاس 24 گھنٹے 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے۔ کوئی فریق بھی نمبرز کو ہاتھ لگانے کو تیارنہیں۔ سب سوچ رہے ہیں کہ پہلے جو کرے گا وہ بھرے گا۔‘
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ یہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔اب تو معاملہ مناسب وقت سے باہر آ چکا ہے۔کیس کی سماعت ایک وقفہ کے بعد ڈیڑھ بجے دوبارہ شروع ہو گی۔واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر کی جانب سے ہٹائے جانے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے۔ پانچ رکنی بینچ نے 23 دسمبر کو گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کیا تھا۔

